سیر روحانی — Page 217
۲۱۷ وہاں تمہیں اچھے مقبرے نصیب ہوں اور تمہیں اُس کے رسولوں کا قرب حاصل ہو۔(۷)۔مینا بازار ساتویں چیز جس کے نشان میں نے اس سفر میں دیکھے اور جن سے میں متاثر ہوا وہ مینا بازار تھے۔چنانچہ میں نے ان یادگاروں میں بازاروں کی جگہ بھی دیکھی جہاں شاہی نگرانی میں بازار لگتے تھے اور ہر قسم کی چیزیں وہاں فروخت ہوتی تھیں۔یہ بازار شاہانہ کرو فر کا ایک نمونہ ہوتے تھے اور بادشاہ خود ان بازاروں میں آ کر چیزیں خریدا کرتے تھے۔آج کل بھی شاہی نگرانی میں بعض دفعہ بازار لگتے ہیں، چنانچہ لا ہور میں کبھی کبھی نمائش ہوتی ہے جس میں تمام قسم کی دکانیں ہوتی ہیں اور انسان کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ اُسے مل جاتی ہے۔لنڈن میں بھی ایک دفعہ ویمبلے کی نمائش ہوئی تھی۔اسی موقع پر ایک مذہبی کا نفرنس بھی ہوئی جس میں میں نے مضمون پڑھا تھا۔اُس وقت میں نے بھی اس بازار کو دیکھا تھا ، مگر جو دُھند لانقش میرے دماغ پر رہ گیا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں اس سے کچھ زیادہ متاثر نہ ہوا تھا۔پُرانے زمانہ کے بادشاہ بھی اسی قسم کے بازار لگایا کرتے تھے اور وہاں قسم قسم کی چیزیں فروخت ہو ا کرتی تھیں۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ کیا ہی اچھے بازار ہوتے ہوں گے جہاں بادشاہ اور وزراء خود خریدار بن کر آتے ہوں گے اور اچھی سے اچھی چیزیں پکتی ہوں گی۔مینا بازار میں فروخت ہونیوالی اشیاء پھر میں نے اپنے ذہن میں سوچا کہ وہاں کیا کیا چیزیں فروخت ہوتی ہوں گی ؟ اور اس سوال کا میرے دل نے مجھے یہ جواب دیا کہ : - اول: وہاں نہایت اعلیٰ درجہ کے مؤدب اور سیکھے ہوئے غلام فروخت ہوتے ہو نگے۔دوم وہاں عمدہ سے عمدہ سواریاں پکتی ہوں گی۔سوم: میں نے اپنے دل میں سوچا کہ وہاں پینے کی چیزیں بھی فروخت ہوتی ہوں گی۔کوئی کہتا ہوگا برف والا پانی لے لو، کوئی کیوڑہ اور بید مشک کا شربت فروخت کرتا ہوگا ، کوئی تازہ دُودھ فروخت کرتا ہوگا ، کوئی شہد فروخت کرتا ہوگا ، کوئی اُس وقت کے ملک کے رواج کے مطابق شراب فروخت کرتا ہوگا اور کوئی گرم چائے فروخت کرتا ہوگا۔چہارم : پھر کھانے کے لئے عمدہ سے عمدہ چیزیں فروخت ہوتی ہوں گی، کہیں پرندوں کے کباب