سیر روحانی — Page 203
۲۰۳ عَطَاءَ حِسَاباً اور يُرْزَقُونَ فِيْهَا اس جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں اس بارہ میں دو قسم کی آیات آتی ہیں بِغَيْرِ حِسَابِ میں کوئی اختلاف نہیں ایک قسم کی تو وہ آیات میں جواد پر بیان ہوئی ایک قم ہیں مگر ایک قسم کی وہ آیات ہیں جن میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ مؤمنوں کو بغیر حساب رزق دیا جائے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ وہ لوگ جنت میں داخل کئے جائیں گے اور انہیں بغیر حساب کے رزق دیا جائے گا۔اب پہلی آیت میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ وہاں عَطَاءً حِسَابًا پیسے پیسے کا حساب ہوگا مگر یہاں یہ فرمایا کہ انہیں بغیر حساب کے رزق دیا جائے گا۔اسی طرح دوزخیوں کے متعلق فرماتا ہے فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُوْرًات کافروں کو مَوْفُور یعنی کثرت والا عذاب ملے گا۔اب بظاہر یہ اختلاف نظر آتا ہے کیونکہ پہلی آیات میں مؤمنوں کے متعلق بتایا گیا تھا کہ انہیں حساب کے مطابق جزاء ملے گی اور دوسری آیات میں یہ بتایا کہ انہیں بغیر حساب کے رزق ملے گا۔اسی طرح دوزخیوں کے متعلق پہلے تو یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ظلم نہیں کرے گا بلکہ ان کے چھوٹے بڑے اعمال کو مد نظر رکھ کر سزا دے گا مگر اس آیت میں یہ بتایا کہ انہیں کثرت سے سزا دی جائے گی جس کے معنے بظاہر یہ معلوم ہوتے ہیں کہ وہ عذاب ان کے حق سے زائد ہو گا ، مگر در حقیقت ان دونوں میں کوئی اختلاف نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ مَوْفُور کا منشاء صرف یہ ہے کہ عذاب جو بھی ہو وہ زیادہ ہی معلوم ہوا کرتا ہے خواہ وہ استحقاق سے تھوڑا ہی کیوں نہ ملے پس جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُوْرًا کے یہ معنے نہیں کہ تمہیں تمہارے حق سے زیادہ عذاب دیا جائے گا بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تم جو بھی گناہ کرتے ہو اس کا بدلہ تمہاری برداشت سے باہر ہو گا پس زیادتی سے مراد عمل سے زیادہ سزا کی نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ گناہ تو انسان دلیری سے کر لیتا ہے مگر اس کی سزا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ پوری سزا کا تو کیا ذکر ہے آدھی سزا بھی برداشت نہیں کر سکتا۔دوسرے مَوفُور کے معنے پورے کے بھی ہوتے ہیں اس لحاظ سے اس آیت پر کوئی اعتراض ہی نہیں ہو سکتا۔یہ تو مَوْفُور کی تشریح ہے باقی رہا جنتیوں کا سوال سو وہ بھی پہلے اصل کے خلاف نہیں