سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 900

سیر روحانی — Page 192

۱۹۲ مصر کا ایک لطیفہ مشہور ہے وہاں چند سال ہوئے ایک عیسائی مبلغ نے تقریریں شروع کر دیں اور لوگوں پر ان کا اثر ہونا شروع ہو گیا۔ایک پُرانی طرز کا مسلمان وہاں سے جب بھی گزرتا دیکھتا کہ پادری وعظ کر رہا ہے اور مسلمان خاموشی سے سُن رہے ہیں اس نے سمجھا کہ شاید کوئی مسلمان مولوی اس کی باتوں کا جواب دے گا۔مگر وہ اس طرف متوجہ نہ ہوئے اور خود اس کی علمی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ اُس کے اعتراضوں کا جواب دے سکتا اس لئے وہ اندر ہی اندر کڑھتا رہتا۔ایک روز خدا تعالیٰ نے اُس کے دل میں جوش پیدا کر دیا اور جب پادری وعظ کرنے لگا تو اُس نے زور سے اُس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔پادری نے سمجھا کہ اگر میں نے اس کا مقابلہ نہ کیا تو یہ اور زیادہ دلیر ہو جائے گا چنانچہ اس نے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اُٹھایا۔مصری کہنے لگا میں نے تو اپنے مذہب پر عمل کیا ہے تم اپنے مذہب پر عمل کر کے دکھا دو۔تمہاری تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک گال پر تھپڑ مارے تو اُس کی طرف تمہیں اپنا دوسرا گال بھی پھیر دینا چاہئے۔میں تو اس امید میں تھا کہ تم اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق اپنا دوسرا گال بھی میری طرف پھیر دو گے مگر تم تو مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے ہو، اگر تمہاری تعلیم قابل عمل ہی نہیں تو تم وعظ کیا کرتے ہو۔پادری اس وقت جوش کی حالت میں تھا اس نے زور سے اُسے گھونسا مار کر کہا اس وقت تو میں تمہارے قرآن پر ہی عمل کروں گا۔انجیل پر عمل کروں گا تو تم مجھے اور مارا کرو گے۔تو ہماری شریعت میں کوئی بات ایسی نہیں جو ناممکن العمل ہو۔وہ کہتا ہے کہ اگر تم سے کوئی شخص بدی کے ساتھ پیش آتا ہے تو تم عفو سے کام لو بشرطیکہ تم سمجھو کہ عفو سے اس کی اصلاح ہو جائے گی لیکن اگر تم سمجھتے ہو کہ عفو سے اس کے اندر نیکی اور تقویٰ پیدا نہیں ہوگا بلکہ وہ اور زیادہ بدی پر دلیر ہو جائے گا تو تم اس سے انتقام بھی لے سکتے ہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے اسلامی شریعت کو ایسا بنایا ہے کہ ہر شخص ہر حالت میں اس پر عمل کر سکتا ہے اور کوئی بات ایسی نہیں ہے جس کے متعلق کہا جا سکے کہ انسان کے لئے اس پر عمل کرنا ناممکن ہے، لیکن دوسری شریعتوں کا یہ حال نہیں۔انجیل نے ہی تعلیم تو یہ دے دی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک گال پر تھپڑ مارے تو ی دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو، لیکن عملی رنگ میں انگریز اس کے خلاف کرتے ہیں حالانکہ وہ عیسائی ہیں ، جرمن اس کے خلاف کرتے ہیں حالانکہ وہ عیسائی ہیں، فرانسیسی اس کے خلاف کی کرتے ہیں حالانکہ وہ عیسائی ہیں، اور وہ سب آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی اس تعلیم پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔