سیر روحانی — Page 190
190 جاتی ہیں۔چنانچہ کئی جہاز ڈوب جاتے ہیں اور وہ بڑے بڑے امیر آدمی جنہیں مخمل کے فرش پر بھی نیند نہیں آیا کرتی ، مچھلیوں کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔پھر مجھے ان لوگوں کا خیال آیا جو کھڈوں میں گر جاتے اور پرندے یا گیدڑ وغیرہ کھا جاتے ہیں۔دنیا میں عجیب اندھیر پھر میری توجہ ان لوگوں کی طرف پھری جن کو جنگوں میں شیر اور بھیڑیئے کھا جاتے ہیں اور میں نے کہا کہ دنیا میں عجیب اندھیر ہے کہ :- اول: مقبرے بے انصافی سے بنے۔: دوم قبروں کی آرام گاہوں کو عمارتوں میں تبدیل کر دیا گیا۔سوم بعض کو خود ان کی قوم نے جلا کر راکھ کر دیا یا پرندوں کو کھلا دیا اور بعض کو حوادث نے خاک میں ، پانی میں ، درندوں کے پیٹوں میں پہنچا دیا۔پس میں نے کہا اگر مقبرے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ مرنے والے کا نشان قائم رکھا جائے تو یہ غرض سب کو حاصل ہونی چاہئے تھی نہ یہ کہ جس کے رشتہ دار امیر ہوتے وہ تو مقبرہ بنا لیتے اور باقی لوگوں کے مقبرے نہ بنتے۔پھر جن کے مقبرے بنے تھے یا جو قبروں میں مدفون ہوئے تھے اُن کے مقبرے اور ان کی قبریں محفوظ رہنی چاہئے تھیں مگر نہ تو سب کے مقبرے بنے اور نہ سب کی قبریں محفوظ رہیں۔پس میں نے کہا یہ تجویز تو بڑی اچھی ہے اور مقبرہ بنانے کا خیال جس شخص کے دل میں پہلی مرتبہ آیا اسے واقع میں نہایت اچھا خیال کو جھا مگر انسانی عقل دنیا کے مقبروں کو دیکھ کر تسلی نہیں پاتی اس لئے کیا کوئی ایسا مقبرہ بھی ہے جس سے وہ غرض پوری ہوتی ہو جو مقبرہ کا موجب بنی ہے اور جس میں کوئی بے انصافی نہ ہوتی ہو، بلکہ ہر ایک کا نشان اس کے حق کے مطابق قائم رکھا جاتا ہو۔ایک اور مقبرہ میں نے دیکھا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور مقبرہ بھی ہے اور اس میں وہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں جو مقبرہ میں ہونی چاہئیں، چنانچہ اس میں لکھا تھا خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ فرماتا ہے ہم نے انسان کو پیدا کیا فَقَدَّرَهُ پھر ہم نے انسان کے اندر اس کی پیدائش کے وقت ہی جس حد تک اس کا نشو و نما ممکن تھا اس کے مطابق تمام طاقتیں اور قو تیں پیدا کر دیں، اسے دماغ دیا ، دماغ کے اندر سیلز بنائے اور ہر سیل کے اندر بات کو محفوظ رکھنے کی طاقت پیدا کی۔اسی طرح ہم نے اسے ذہانت دی اور اس ذہانت کے لئے اس کے دماغ کے کچھ حصے مخصوص کئے۔کچھ فہم کے لئے مخصوص کئے، کچھ جرات اور دلیری کے لئے مخصوص کئے ، پھر