سیر روحانی — Page 185
۱۸۵ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ (۳) ( تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۱ء بر موقع جلسه سالانه قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- (4) جسمانی مقبرے اور روحانی مقبرے چھٹی بات جو میں نے مذکورہ بالا سفر میں دیکھی تھی شاندار مقبرے تھے جو بادشاہوں کے بھی تھے اور وزیروں کے بھی تھے، امیروں کے بھی تھے اور فقیروں کے بھی تھے، اولیاء اللہ کے بھی تھے اور غیر اولیاء اللہ کے بھی تھے، حتی کے کتوں کے بھی مقبرے تھے مگر ان مقبروں میں کوئی پہلوفن کے لحاظ سے صحیح معلوم نہیں ہوتا تھا۔یوں عمارتیں بڑی شاندار تھیں اور وقتی طور پر اُن کو دیکھ کر دل پر بڑا اثر ہوتا تھا چنانچہ آگرہ کا تاج محل بڑا پسند یدہ نظر آتا ہے ، ہمایوں کا مقبرہ بڑا دل پسند ہے، اسی طرح منصور اور عماد الدولہ کے مقبرے وہیں ہیں اور جہانگیر کا مقبرہ شاہدرہ لاہور میں سب اچھے معلوم ہوتے ہیں مگر جب ان مقابر کو ہم مجموعی حیثیت سے دیکھتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں نے ان کی تعمیر میں فن کو مد نظر نہیں رکھا۔جسمانی مقابر میں تاریخی حقائق اور باہمی توازن کا فقدان چنانچہ دیکھ لو مقبرہ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اُس شخص کی زندگی کا ایک نشان ہو جس کا وہ مقبرہ ہے اور اُس کی تاریخ کو وہ دنیا میں محفوظ رکھے، مگر ہمیں ان بادشاہوں، وزیروں، امیروں اور فقیروں وغیرہ کی زندگی کا نشان ان مقبروں میں کچھ بھی نظر نہیں آتا اور نہ ان مقبروں میں کوئی باہمی توازن دکھائی دیتا ہے۔مثلاً بعض ادنی درجہ کے لوگ نہایت اعلیٰ مقبروں میں تھے اور بعض اعلیٰ درجے کے لوگ نہایت ادنیٰ مقبروں میں تھے۔اسی طرح جو دُنیوی لوگ ہیں اور جو روحانی لحاظ سے ادنی سمجھے جاتے ہیں ، مجھے نظر آیا