سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 900

سیر روحانی — Page 170

۱۷۰ کھلے راستے اور وہ بھی نا ہموار اس کے چاروں طرف موجود ہیں۔اس قلعہ کے گر دکوئی جنگی چوکیاں نہیں (9) نویں بات یہ ہے کہ قلعہ کے گردا گرد کو جنگی چوکیوں سے محفوظ کیا جاتا ہے تا کہ قلعہ سے دور دشمن کے حملہ کو روکا جا سکے مگر یہ قلعہ عجیب ہے کہ اس کے گر دکئی کئی میل کے دائرہ میں اسلحہ لیکر پھرنے سے روکدیا گیا ہے اور حکم دیدیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس کے ارد گرد چار چار پانچ پانچ میل تک کوئی ہتھیار لیکر نہ چلے۔اس قلعہ میں رہنے والوں کو شکار تک کی ممانعت (۱۰) دسویں قلعہ کے اندر رہنے والوں کو جنگجو بنایا جاتا ہے مگر اس کے اندر رہنے والوں کو حکم ہے کہ کوئی شکار نہ ماریں سوائے سانپ ، بچھو، چیل اور چوہے کے جن کا مارنا ضرور تا ہوتا ہے نہ کہ جنگجوئی پیدا کرنے کے لئے۔دشمن کے حملہ کو روکنے کیلئے تو پوں اور منجنیقوں کی (1) گیارھویں بات میں نے یہ بتائی تھی کہ قلعہ کے اندر حملہ کو روکنے کے لئے باہر کی بجائے نمازوں اور دعاؤں سے کام لینے کا ارشاد طرف منہ کر کے منجنیقیں یا تو پہیں رکھی ہوتی ہیں مگر اس قلعہ میں مَشَابَہ اور امن کا ذریعہ یہ بتایا ہے کہ فَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّی یعنی جب دشمن حملہ کرے تو مَثَابَہ اور امن کے قیام کے لئے دشمن کی طرف پیٹھ کر کے اور کعبہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ۔غرض قلعوں کو مضبوط بنانے یا دیر تک محاصروں کی برداشت کر سکنے کے لئے جس قدر سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ صرف یہ کہ اس میں پائے نہیں جاتے بلکہ اکثر امور میں ان کے برعکس حالات پائے جاتے ہیں جو قلعوں کو اُجاڑنے کا موجب ہوتے ہیں مثلاً بے پانی ، بے غذا، نہروں سے دُور ، جنگلوں سے پرے، فصیلوں اور چوکیوں کے بغیر کوئی قلعہ قلعہ نہیں کہلا سکتا مگر یہ قلعہ ایسا تھا کہ اس میں مجھے ان سامانوں میں سے کوئی سامان کی بھی دکھائی نہ دیا۔حتی کہ اس قلعہ کے ارد گر د اسلحہ لے کر پھرنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔یہ قلعہ کب بنایا گیا؟ اب میں نے سوچا کہ یہ قلعہ ہے کب کا ؟ تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے کا ہے کیونکہ خود حضرت کو کی الہام ہوا کہ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ اس پرانے گھر کا لوگ آ کر طواف کیا کریں