سیر روحانی — Page 163
۱۶۳ کہہ اُٹھتا ہے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (۵) مادی قلعے کے مقابلہ میں قرآنی قلعہ ایک بات میں نے یہ بیان کی تھی کہ میں نے اس سفر میں کئی قلعے دیکھے چنانچہ گولکنڈہ کا قلعہ دیکھا ، فتح پور سیکری کا قلعہ دیکھا، اسی طرح دہلی کے کئی قلعے دیکھے اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ :- (۱) ان قلعوں کے ذریعہ سے کیسے کیسے حفاظت کے سامان پیدا کئے گئے ہیں۔(۲) اور پھر ساتھ ہی میں نے اپنے دل میں کہا کہ کس طرح یہ حفاظت کے سامان خودمٹ گئے ہیں اور ان کو بنانے والا اب کوئی نہیں کیونکہ ان حکومتوں کا نام لیوا کوئی نہیں رہا، بلکہ اب تو بہت سے قلعوں میں جانور آزادانہ پھرتے ہیں اور گوبر سے ان کے صحن آٹے ہوئے ہیں۔بہت سے قلعوں میں گوجروں نے گھر بنارکھے ہیں کیونکہ انہیں شہر کے باہر مکان چاہئیں اور یہ قلعے ان کے کام خوب آتے ہیں۔کئی قلعے جو کسی حد تک محفوظ ہیں اب ان حکومتوں کے دشمنوں کے ہاتھوں میں ہیں جنھوں نے وہ قلعے بنائے تھے۔ان بادشاہوں کی اولاد کو تو ان قلعوں میں جانے کی اجازت نہیں ، لیکن ان کے دشمن ان میں اکڑتے پھرتے ہیں اور اپنی حکومت کے گھمنڈ میں ان کی گردنیں لقا کبوتروں کی طرح امیٹھی ہوئی ہیں۔دتی کا قلعہ جس میں داخل ہوتے ہوئے ہندو راجے بھی سات سات دفعہ جھک کر سلام کرتے تھے اب بقالوں اور بنیوں کے قبضہ میں ہے اس سے پہلے سمندر پار کے انگریزوں کے قبضہ میں تھا اور اس کے بنانے والے مغل بادشاہوں کے کئی شہزادے اس کے سامنے مشکیزوں سے پانی پلا کر پیسے کماتے ہیں اور بے چھنے آٹے کی روٹی سے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں ان میں اکٹر کر چلنے والے بادشاہوں کی روحیں آج اپنی اولادوں کی اس بیکسی کو دیکھ کر کس طرح بے تاب ہو رہی ہونگی۔ان قلعوں کو بنانے والوں نے تو یہ قلعے اس لئے بنائے تھے کہ یہ ہماری حفاظت کریں گے مگر یہ قلعے بھی مٹ گئے اور ان کو بنانے والے بھی کوئی نہ رہے پس میں نے سوچا کہ ان کی قلعوں کو ان بادشاہوں نے کیوں بنا یا تھا؟ اور پھر خود ہی میرے دل نے اس سوال کا یہ جواب