سیر روحانی — Page 161
۔حضرت عمرؓ بھی چلے گئے تو میں سخت حیران ہوا کہ اب کیا کروں؟ اتنے میں میرے کانوں میں ایک نہایت ہی شیریں آواز آئی کہ ابو ہریرہ کیا بھوک لگی ہے؟ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے، پھر آپ نے فرمایا ، ادھر آؤ ہمیں بھی آج فاقہ تھا مگر ابھی ایک مسلمان نے دودھ کا پیالہ تحفہ بھیجا ہے پھر آپ نے فرمایا مسجد میں نظر ڈالو، اگر کوئی اور شخص بھی کی بھو کا بیٹھا ہو تو اسے بھی اپنے ساتھ لے آؤ۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں میں مسجد میں گیا تو ایک نہ دو بلکہ اکٹھے چھ آدمی میرے ساتھ نکل آئے۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ آج شامت آئی۔ودھ کا پیالہ تو مجھ اکیلے کیلئے بھی بمشکل کفایت کرتا مگر اب تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔بھلا جہاں سات آدمی دودھ پینے والے ہوں وہاں کیا بچ سکتا ہے مگر خیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا میں ان کو اپنے ہمراہ لیکر کھڑکی کے پاس پہنچا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ کا پیالہ بجائے مجھے دینے کے اُن میں سے ایک کے ہاتھ میں دیدیا۔میں نے کہا بس اب خیر نہیں ، اس نے دودھ چھوڑ نا نہیں اور میں بھوکا رہ جاؤں گا۔خیر اس نے کچھ دودھ پیا اور پھر چھوڑ دیا میں نے اپنے دل میں کہا کہ شکر ہے کچھ تو دودھ بچا ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دودھ دینے کی بجائے ایک دوسرے شخص کو پیالہ دیا کہ اب تم پیو۔جب وہ بھی سیر ہو کر پی چکا تو میں نے کہا اب تو میری باری آئے گی اور میں اس بات کا منتظر تھا کہ اب پیالہ مجھے دیا جائیگا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیالہ لے کر ایک اور شخص کو دیدیا اور میں نے سمجھا کہ بس اب خیر نہیں ، اب تو دودھ کا بچنا بہت ہی مشکل ہے مگر اس کے پینے کے بعد بھی دودھ بیچ رہا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور کو پیالہ دیدیا پھر اس کے بعد ایک اور کو دیدیا۔اسی طرح چھ آدمی جو میرے ساتھ آئے تھے سب کو باری باری دیا اور آخر میں مجھے دیا اور فرمایا ابوہریرہ اب تم دودھ پیو۔میں ضمناً یہ ذکر کر دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے معجزات کوئی خیالی باتیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء وصلحاء کو ایسے نشانات بھی دیتا ہے تا کہ ماننے والے اپنے یقین اور ایمان میں ترقی کریں مگر یہ نشانات صرف مؤمنوں کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں تا کہ ایمان میں غیب کا پہلو قائم رہے ) غرض حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے پیالہ لیا اور دودھ پینا شروع کر دیا اور اس قدر پیا اس قدر پیا کہ میری طبیعت بالکل سیر ہو گئی اور میں نے پیالہ رکھدیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو ہریرہ ! اور پیو۔میں نے پھر کچھ دودھ پیا اور