سیر روحانی — Page 160
17۔صبر آزما حالات میں یہ کام کیا ہے کہ ان کی زندگی کے واقعات پڑھ کر رونا آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی دین کیلئے فاقہ کشی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری چھ سالوں میں داخلِ اسلام ہو ا تھا اور چونکہ اسلام پر کئی سال گزر چکے تھے اس لئے میں نے دل میں تہیہ کر لیا کہ اب میں ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہوں گا تا کہ جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرما ئیں میں فوراً سن لوں اور اُسے دوسرے لوگوں تک پہنچا دوں۔چنانچہ انہوں نے مسجد میں ڈیرہ لگا لیا اور ہر وقت وہیں بیٹھے رہتے۔ان کا بھائی انہیں کبھی کبھی کھانا بھجوا دیتا لیکن اکثر انہیں فاقے سے رہنا پڑتا۔وہ خود بیان کرتے ہیں کہ بعض دفعہ کئی کئی دن کا فاقہ ہو جاتا اور شدت بھوک کی وجہ سے میں بے ہوش ہو جاتا۔لوگ یہ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے اور وہ میرے سر میں جوتیاں مارنے لگ جاتے کیونکہ عرب میں اُن دنوں مرگی کا علاج یہ سمجھا جاتا تھا کہ آدمی کے سر پر جوتیاں ماری جائیں۔غرض میں تو بھوک کے مارے بیہوش ہوتا اور وہ مجھے مرگی زدہ سمجھ کر میرے سر پر تڑا تر جوتے مارتے چلے جاتے۔کہتے ہیں اسی طرح ایک دفعہ میں مسجد میں بھو کا بیٹھا تھا اور حیران تھا کہ اب کیا کروں مانگ میں نہیں سکتا تھا کیونکہ مانگتے ہوئے مجھے شرم آتی تھی اور حالت یہ تھی کہ کئی دن سے روٹی کا ایک لقمہ تک کی پیٹ میں نہیں گیا تھا۔آخر میں مسجد کے دروازہ پر کھڑا ہو گیا کہ شاید کوئی مسلمان گزرے اور میری حالت کو دیکھ کر اسے خود ہی خیال آ جائے اور وہ کھانا بھجوا دے۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر چلے آ رہے ہیں۔میں نے اُن کے سامنے قرآن کریم کی ایک آیت پڑھ دی جس میں بھوکوں کو کھانا کھلانے کا ذکر آتا ہے اور میں نے کہا کہ اس کے معنے کیا ہیں؟ حضرت ابو بکر نے اُس آیت کی تفسیر بیان کی اور آگے چل پڑے۔حضرت ابو ہریرۃ کہتے ہیں مجھے بڑا غصہ آیا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ مجھے کیا تفسیر کم آتی ہے کہ یہ مجھے اس کی تفسیر بتانے لگے ہیں۔خیر وہ گئے تو حضرت عمرؓر آ گئے۔میں نے اپنے دل میں کہا یہ بڑا زیرک انسان کی ہے یہ ضرور میرے مقصد کو سمجھ لے گا چنانچہ میں نے ان کے سامنے بھی قرآن کی وہی آیت پڑھ دی اور کہا کہ اس کے معنے کیا ہیں؟ انہوں نے بھی اُس آیت کی تفسیر کی اور آگے چل پڑے۔مجھے پھر غصہ آیا کہ کیا عمر مجھ سے زیادہ قرآن جانتے ہیں؟ میں نے تو اس لئے معنے پوچھے تھے کہ انہیں میری حالت کا احساس ہو مگر یہ ہیں کہ معنے کر کے آگے چل دیئے۔جب