سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 900

سیر روحانی — Page 143

۱۴۳ کے نیک ظنوں کو پورا کر دیتا تھا۔اسلام میں ہر قسم کے ظلم کی ممانعت پھر فساد ظلم سے پیدا ہوتا ہے اور علم کی کئی قسمیں ہیں مگر اسلام نے اُن سب کو مٹا دیا ہے۔- چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضاً ؟ وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضاً " کہ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا ظلم ہوتا ہے اور دوسرے کی عزت پر اس سے حملہ ہوتا ہے۔دوسری چیز مال ہے جس کی وجہ سے ظلم کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بارہ میں بھی ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے۔وَلَا تَأكُلُوا اَمْوَالَكُمُ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِل ۲۵ که جھوٹ اور فریب سے ایک دوسرے کے اموال نہ کھایا کرو۔پھر جان ہوتی ہے اس کے متعلق فرمایا وَلَا تَقْتُلُوا اَنْفُسَكُم " کہ اپنے آپ کو قتل مت کرو۔اسی طرح تجارت میں بعض دفعہ ظلم کا ارتکاب کر لیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی روکا اور فرمایا وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ - وَإِذَا كَالُو هُمُ اَوْ وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ " کہ لعنت ہے اُن پر ، ہلاکت ہے اُن پر جو لوگوں کے حقوق کو غصب کرتے ہیں اور جب چیزیں لیتے ہیں تو تول میں پوری لیتے ہیں اور جب دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں گویا اسلام نے ظلم کی تمام شقوں سے روک دیا اور اس طرح اُس نے جان کو بھی محفوظ کر دیا، عزت کو بھی محفوظ کر دیا اور صحابہ نے اس پر ایسا عمل کر کے دکھایا کہ جس طرح حرم میں داخل ہو کر انسان امن میں آ جاتا ہے اس طرح وہ لوگوں کی عزتوں اور ان کے مالوں اور ان کی جانوں کے محافظ تھے اور امانتیں تو ان کے پاس اس طرح محفوظ رہتی تھیں کہ آجکل کے بنکوں میں بھی ویسی محفوظ نہیں رہتیں۔ایک صحابی ایک دفعہ ایک گھوڑا فروخت کرنے کے لئے لائے اور انہوں نے اس کی دوسو دینار قیمت بتائی۔ایک اور صحابی نے کہا کہ میں یہ گھوڑا لینا چاہتا ہوں مگر تم غلط کہتے ہو کہ اس کی دوسو دینار قیمت ہے اس کی تو پانچ سو دینار قیمت ہے وہ کہنے لگے میں صدقہ خور نہیں کہ زیادہ قیمت لے لوں اس کی اصل قیمت دو سو دینا رہی ہے۔اب وہ دونوں جھگڑنے لگ گئے۔بیچنے والا کہتا تھا کہ میں دو سو دینار لوں گا اور خرید نے والا کہتا تھا کہ میں پانچ سو دینار دونگا۔کی اب بتاؤ جہاں اس قسم کے لوگ ہوں وہاں امن کس شان کا ہوگا مگر اب تو جتنا کوئی مالدار ہوتی