سیر روحانی — Page 130
۱۳۰ اسی طرح تم میرے کسی صحابی کے پیچھے چل پڑو وہ تمہیں خدا کے دروازہ پر پہنچا دیگا۔چنانچہ سب صحابه هُدًى لِلKANGANAL کا ایک عملی نمونہ تھے اور وہ دوسروں کو نیکی کی تعلیم دینے میں سب سے آگے رہتے تھے۔مکی زندگی کا یہی ایک واقعہ صحابہؓ کے اس طریق عمل پر روشنی ڈالنے کے کی لئے کافی ہے۔ایک صحابی جن کا نام عثمان بن مظعون تھا تیرہ چودہ سال کی عمر میں مسلمان ہوئے ، اُن کا باپ عرب میں بہت وجاہت رکھتا تھا۔جب یہ مسلمان ہو گئے تو مکہ کے ایک بہت بڑے رئیس نے جو اُن کے باپ کا دوست تھا انہیں اپنے پاس بلایا اور کہا آجکل مسلمانوں کی سخت مخالفت ہے، میں تمہیں اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں تمہیں کوئی شخص تکلیف نہیں پہنچا سکے گا۔انہوں نے اس کی بات مان لی اور اُس رئیس نے خانہ کعبہ میں جا کر اعلان کر دیا کہ عثمان میرے بھائی کا بیٹا ہے اسے کوئی شخص دُکھ نہ دے۔عربوں میں یہ طریق تھا کہ جب ان میں سے کوئی رئیس کسی کو اپنی پناہ میں لینے کا اعلان کر دے تو پھر اسے کوئی تکلیف نہیں دیتا تھا اگر ایسا کرتا تو اسی رئیس اور اُس کے قبیلہ سے لڑائی شروع ہو جاتی تھی۔ایک دن حضرت عثمان کسی جگہ سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک مسلمان غلام کو کفار بڑی بیدردی سے مار پیٹ رہے ہیں۔ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ بہت بُری بات ہے کہ میں تو مکہ میں امن سے رہوں اور میرے بھائی تکلیف اُٹھاتے رہیں چنانچہ وہ سیدھے اُس رئیس کے پاس پہنچے اور اُسے کہا کہ آپ نے جو مجھے اپنی پناہ میں لینے کا اعلان کیا تھا میں اس ذمہ داری سے آپ کو سبکدوش کرتا ہوں اور آپ کی پناہ میں نہیں رہنا چاہتا۔اس نے کہا تم جانتے نہیں کہ مکہ مسلمانوں کے لئے کیسی خطرناک جگہ ہے اگر میں نے اپنی پناہ واپس لے لی تو لوگ فورا تم کو ایذاء دینے لگ جائیں گے۔انہوں نے کہا مجھے اس کی پروا نہیں ، مجھ سے یہ دیکھا نہیں جاتا کہ میں تو آرام سے رہوں اور میرے بھائی تکلیفیں اُٹھاتے رہیں۔چنانچہ ان کے اصرار پر اُس نے خانہ کعبہ میں جا کر اعلان کر دیا کہ عثمان بن مظعون اب میری پناہ میں نہیں رہا۔اس کی اعلان پر ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ عرب کا ایک مشہور شاعر جس کا قصیدہ سبعہ معلقہ میں شامل ہے مکہ میں آ گیا۔اہل عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مشہور شاعر آتا تو بہت بڑی مجلس کی منعقد کی جاتی اور اس کے کلام سے لوگ محظوظ ہوتے۔اس کے آنے پر بھی ایک بہت بڑی مجلس منعقد کی گئی اور تمام مکہ والے اس میں شامل ہوئے۔حضرت عثمان بن مظعون بھی اس کا کلام سُننے کے لئے وہاں جا پہنچے اُس نے شعر پڑھتے پڑھتے ایک مصرعہ یہ پڑھا کہ :-