سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 900

سیر روحانی — Page 128

۱۲۸ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمُ کے یہی معنے ہیں کہ انہوں نے خدا کی رضا حاصل کر لی۔صحابہ کرام کی ظاہری برکات کے بعض ایمان افروز واقعات پھر ان کی ظاہری برکات کے بھی کئی نمونے موجود ہیں ایک دفعہ صحابہ کسی جگہ گئے تو وہاں کے رہنے والوں میں سے ایک کو سانپ نے کاٹ لیا ، پرانے دستور کے مطابق وہ دم کرنے اور کچھ پڑھ کر پھونک مارنے والے کو بلایا کرتے تھے انہوں نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے؟ ایک صحابی نے کہا میں ہوں۔وہ اُسے ساتھ لے گئے اور انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کر دیا اور وہ شخص پالکل اچھا ہو گیا۔اس خوشی میں گھر والوں نے انہیں کچھ بکریاں تحفہ کے طور پر دیں جو انہوں نے لے لیں، باقی صحابہ نے اس پر کچھ اعتراض کیا اور جب مدینہ آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کا ذکر کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کے دل کو خوش کرنے کے لئے فرمایا کہ اس تحفہ میں سے میرا حصہ بھی تو لا و یعنی یہ تحفہ تو اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے تھا۔مطلب یہ کہ اس قسم کے جنتر منتر تو اسلام میں نہیں لیکن ان لوگوں کو ایمان دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کو برکت بخشی اور ایک نشان دکھایا۔پس جو تحفہ ملا وہ بابرکت ہے ہے اس برکت میں سے مجھے بھی حصہ دو۔تو دیکھو صحابہ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کیسی برکت ملی کہ انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر پھونک ماری اور مارگزیدہ اچھا ہو گیا۔بعض لوگ اس کی نقل میں آجکل بھی سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے کے عادی ہیں مگر ان کے دم میں کوئی اثر نہیں ہوتا، بلکہ اگر کوئی غیر مومن سو دفعہ بھی سورۃ فاتحہ پڑھ کر پھونک مارے تو کوئی اثر نہیں ہوگا۔سورۃ فاتحہ اس شخص کی زبان سے نکلی ہوئی بابرکت ہو سکتی ہے جس کے اندر خود برکت ہو۔پھر ایک اور واقعہ اسی قسم کا مولانا روم نے لکھا ہے وہ لکھتے ہیں کہ رومیوں کو جب شکست ہوئی تو کچھ عرصہ کے بعد قیصر روم کو سر درد کا دورہ شروع ہو گیا۔ڈاکٹروں نے بہت علاج کیا مگر اسے کوئی فائدہ نہ ہوا۔آخر اسے کسی نے کہا کہ تم مسلمانوں کے خلیفہ کو لکھو وہ اپنی کوئی برکت والی چیز تمہیں بھیج دیں جس سے ممکن ہے تمہیں آرام آجائے۔قیصر نے حضرت عمر کے پاس اپنا ایلچی بھیجا کہ مجھے اپنی کوئی برکت والی چیز بھیجیں میرے سر درد کو آرام نہیں آتا، ممکن ہے اس سے آرام آ جائے۔عرب کے لوگ اپنے بالوں میں خوب تیل لگانے کے عادی تھے ، حضرت عمر نے اپنی ایک پرانی ٹوپی جسے تیل لگا ہوا تھا اور جس پر بالشت بالشت بھر میں جمی ہوئی تھی اُس کے ہاتھ بھیج دی اور