سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 900

سیر روحانی — Page 120

۱۲۰ جیسے مسجد مساوات قائم کیا کرتی ہے۔جس طرح وہاں امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں ہوتا اسی طرح اسلام میں چھوٹے بڑے میں کوئی فرق نہیں۔مساوات کے قیام کے لئے اسلام میں زکوۃ کا حکم پھر مساوات قائم کرنے کا ایک اور ذریعہ اسلام نے اختیار کیا اور جس پر صحابہ بڑی شدت سے عمل کرتے تھے زکوۃ کا مسئلہ ہے۔اسلام نے زکوۃ اسی لئے مقرر کی ہے تاکہ لوگوں میں مساوات قائم رہے یہ نہ ہو کہ بعض لوگ بہت امیر ہو جائیں اور بعض لوگ غریب ہو جائیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زکوۃ کے بارہ میں فرماتے ہیں۔تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِيَاءِ هِمْ وَ تُرَدُّ عَلى فُقَرَاءِ هِمُ کے کہ وہ امیروں سے لی جائے گی کلا اور غریبوں کو دی جائے گی ، کیونکہ ان کے اموال میں اس قدر حصہ دراصل غرباء کا ہے اور اُن کا حق ہے کہ اُن کا حصہ ان کو واپس دیا جائے۔یہ زکوۃ سرمایہ پر اڑھائی فیصدی کے حساب سے وصول کی جاتی ہے اگر سرمایہ پر چھ فیصدی نفع کا اندازہ لگایا جائے تو اڑھائی فیصدی زکوۃ کے معنی یہ بنتے ہیں کہ منافع کا چالیس فیصدی اللہ تعالیٰ غرباء کو دینے کا ارشاد فرماتا ہے گویا شریعت نے ایک بڑا بھاری ٹیکس مسلمانوں پر لگا دیا ہے تا کہ اس روپیہ کو غرباء کی ضروریات پر خرچ کیا جائے اور ان کی ترقی کے سامان مہیا کئے جائیں۔فتوحات میں حاصل ہونے والے اسی طرح فی یعنی وہ اموال جو فتوحات میں حاصل ہوں ان کے متعلق شریعت کا حکم ہے اموال کی تقسیم کے متعلق قرآنی ہدایات کہ انہیں علاوہ اور قومی ضرورتوں پر خرچ کرنے کے غرباء میں بھی تقسیم کیا جائے تاکہ امیر اور غریب کا فرق مٹ جائے، اللہ تعالیٰ اس کے متعلق قرآن کریم میں ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے۔مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ اَهْلِ الْقُرى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَ لِذِي الْقُرْبَى وَ الْيَتمَى وَ الْمَسْكِينِ وَ ابْنِ السَّبِيلِ كَى لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ١٨ کہ وہ اموال جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم کو بغیر کسی محنت کے مل جایا کریں ، ان کے متعلق ہماری یہ ہدایت ہے کہ وہ اموال اللہ تعالیٰ کا حق ہیں شریعت کو جب ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق سے کیا مراد ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق سے مراد یہ ہے کہ وہ مال غرباء اور ضروریات دین اور ضروریاتِ قومی پر خرچ کیا جائے۔ضروریات دینی و