سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 900

سیر روحانی — Page 115

۱۱۵ مجھے آزاد کر دیا ہے مگر میں اُن سے آزاد نہیں ہونا چاہتا اور انہی کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔باپ اور چچا نے شور مچا دیا کہ تم عجیب بے وقوف ہو کہ اپنے گھر اور اپنے والدین پر اس شخص کی رفاقت کو ترجیح دیتے ہو۔انہوں نے کہا مجھے باپ سے بھی محبت ہے اور ماں سے بھی ، اسی طرح کی باقی سب رشتہ داروں سے مجھے اُلفت ہے مگر بخدا! یہ شخص مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے اور میں اس سے جُدا ہونا پسند نہیں کرسکتا۔یہی وہ موقع ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ زید اب میرا بیٹا ہے۔" گویا پہلے تو آپ نے زید کو آزاد کیا اور پھر اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔اب دیکھو زید ایک غلام تھا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کیا مگر اس نے اپنے گھر کی آزادی اور دولت کو پسند نہ کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنا اُسے زیادہ پیارا معلوم ہو ا۔جنگوں میں گرفتار ہونے والوں کے متعلق اسلامی احکام اسی طرح جب بھی اسلامی جنگوں کے نتیجہ میں غلام گرفتار ہو کر آئیں اُن کے متعلق شریعت کا یہی حکم ہے کہ مسلمان یا تو احسان کر کے انہیں چھوڑ دیں یا فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں یا مکاتبت کے ذریعہ سے چھوڑ دیں اور اگر اس کے باوجود کوئی شخص آزاد نہیں ہوتا تو یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔اگر اس کے پاس روپیہ نہیں تو وہ مجسٹریٹ کے پاس جا کر درخواست دے سکتا ہے کہ میرے پاس روپیہ نہیں میری حیثیت کے مطابق مجھ پر جرمانہ لگا دیا جائے ، میں روپیہ کما کر ماہوار اتنی رقم ادا کرتا چلا جاؤں گا۔لیکن اگر اس کے باوجود وہ آزادی کے لئے کوشش نہیں کرتا تو اس کے معنے پہ ہونگے کہ مسلمان کا گھر اُسے ایسا اچھا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کُفر کی آزادی کو پائے استحقار سے ٹھکرانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔پس جس طرح مسجد مساوات کو قائم کرتی ہے اسی طرح اسلام نے غلامی کو مٹا کر دُنیا میں مساوات قائم کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے عملی نمونہ یہ دکھایا کہ اپنی پھوپھی زاد بہن کو اسی زید سے جو آزاد شدہ غلام تھا بیاہ دیا ، حالانکہ عرب لوگ اسے بہت بُرا سمجھتے تھے۔اسی طرح اسامہ جو زیڈ کے بیٹے تھے انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایسے لشکر کا سردار مقرر کر دیا جس میں دس ہزار مسلمان تھے اور جس میں ابو بکر اور حضرت عمر تک شامل تھے حالانکہ عربوں