سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 900

سیر روحانی — Page 89

۸۹ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَاناً لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَّ بُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ - ٤٥ یعنی اے رسول ! ہم نے تجھ پر وہ کتاب نازل کی ہے جو تِبْيَاناً لِكُلِّ شَيْءٍ ہے جس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے اور جس کا کوئی کنارہ ہی نہیں۔اس میں موتی بھی ہیں، اس میں مو نگے بھی ہیں ، اس میں ہمیرے بھی ہیں ، اس میں جواہرات بھی ہیں ، غرض خشکی اور تری کی تمام نعمتیں اس میں جمع ہیں جب بھی تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تم اس سمندر میں غوطہ لگاؤ وہ چیز تمہارے ہاتھ میں آجائے گی۔پھر سمندر میں تو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ انسان غرق ہو جائے بعض دفعہ سمندروں میں طوفان آتے اور بڑے بڑے جہاز تباہ ہو جاتے ہیں مگر فر مایا یہ وہ سمندر ہے که هُدًى وَرَحْمَةً اس سمندر میں جو غوطہ لگائے وہ کبھی تباہ نہیں ہو سکتا اور سمندروں میں بڑے بڑے کپتان بھی بعض دفعہ راستہ بھول جاتے ہیں مگر یہ وہ سمندر ہے کہ جہاں کوئی انسان رستہ بُھولنے لگتا ہے وہ کہتا ہے کہ غلط راستے پر نہ جاؤ۔صحیح راستہ یہ ہے ادھر آؤ۔پھر یہ صرف هُدًى نہیں بلکہ رَحْمَہ بھی ہے۔ان سمندروں میں تو لوگ ڈوبتے اور عذاب میں مبتلاء ہوتے ہیں مگر یہ وہ سمندر ہے جو انسان کو زندگی بخشا اور اُسے ہر قسم کی تباہی سے محفوظ رکھتا ہے۔پھر اسی حد تک بس نہیں بلکہ بُشْرَى لِلْمُسْلِمِینَ۔اس سمندر میں تیر نے والا ہمیشہ خوشی محسوس کرتا ہے اور کبھی کسی خطرہ سے اسے دو چار ہونا نہیں پڑتا۔اس کے آگے بھی رحمتیں ہوتی ہیں اس کے پیچھے بھی رحمتیں ہوتی ہیں۔جب ایک نعمت اسے مل جاتی ہے تو اُسے کہا جاتا ہے کہ اسی نعمت پر بس نہیں آؤ تمہیں دوسری نعمت بھی دیں۔اور جب دوسری نعمت مل جاتی ہے تو تیسری نعمت اس کے سامنے پیش کر دی جاتی ہے وہ ایک مقام پر اپنا قدم روکتا ہے تو اُسے آواز آتی ہے کہ صاحب ٹھہرتے کیوں ہیں ، اگلی منزل پر اس سے بھی زیادہ اچھی نعمتیں ہیں اور جب وہ دوسری منزل پر پہنچتا ہے تو آواز آتی ہے کہ صاحب آگے بڑھیئے ہماری نعمتیں تو ابھی آپ نے دیکھی ہی نہیں سمندر میں تو جب انسان دو چار سو میل آگے جاتا ہے تو جہا ز خطرے میں گھر جاتا ہے مگر یہاں ہر قدم پر یہ آواز آتی ہے کہ گھبرایئے نہیں ، آپ تو امن اور سلامتی کی طرف بڑھتے چلے آ رہے ہیں۔قرآنی سمندر کی وسعت پھر سورۃ لقمان رکوع ۳ میں اس سمندر کی وسعت بتائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَوْاَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ والْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ *