سیر روحانی — Page 829
قلعہ آگرہ یہاں پہلے سکندر لودھی کا قلعہ موجود تھا جس کی تعمیر اینٹ پتھر سے ہوئی تھی۔اکبر نے آگرے کو مستقل پائے تخت بنالیا تو ۱۵۶۳۵۹۷۲ء میں پرانا قلعہ مسمار کر کے سنگِ سُرخ سے نیا قلعہ بنانے کا حکم دیا جو شہر کے مشرقی جانب دریائے جمنا کے کنارے نصف دائرے کی شکل میں ایک نہایت مضبوط، خوبصورت اور عظیم الشان عمارت ہے۔اس کی فصیل بہت چوڑی اور بلند رکھی گئی کیونکہ شاہی خاندان کی سکونت کے علاوہ دفاعی مقاصد بھی پیش نظر تھے۔قلعے کا دور تین ہزار گز کے قریب ہے۔اندر اکبر نے حسب ضرورت بے شمار عمارتیں بنوالی تھیں۔فصیل میں ہیں بُرج، چار دروازے اور دو کھڑکیاں تھیں۔شاہ جہاں کے عہد حکومت میں قلعے کی اندرونی عمارتوں میں بہت رد و بدل ہوا اور پرانی عمارتوں کی جگہ نئی عمارتیں نہایت خوش وضع ، خوبصورت اور زیادہ تر سنگِ مرمر سے بنوائی گئیں۔اب صرف دو دروازے کھلے ہیں، باقی کھڑکیاں اور دروازے بند کر دیئے گئے۔دیوان عام اور دیوانِ خاص بھی شاہ جہاں ہی کے عہد میں بنے۔عالمگیر نے پہلی فصیل کے باہر دس گز کا فاصلہ چھوڑ کر ایک اور فصیل بنوادی جو اندرونی فصیل سے بلندی میں کم ہے۔چونکہ مغلوں کے زیادہ تر محفوظ خزانے اسی قلعے میں تھے ، غالباً اسی کی حفاظت کے لیے نئی فصیل ضروری سمجھی گئی۔بند ہونے والے دروازوں میں سے ایک ہتھیا پول“ نام دروازہ بھی تھا۔اس کی جگہ پتھر کے دو ہاتھی آمنے سامنے کھڑے کر کے ان کی سونڈوں سے محراب کی شکل بنائی گئی تھی۔کھلے دروازوں میں سے ایک کا نام دہلی دروازہ ہے جس کا رُخ دہلی کی طرف ہے۔دوسرے کا نام امرسنگھ کا دروازہ ہے یہ نام غالبا اس لیے مشہور ہو گیا کہ اس کے سامنے امرسنگھ راٹھور کا کو محلہ تھا۔لوگ پہلے دہلی دروازے سے اندر جاتے تھے ، اب امرسنگھ کے دروازے سے جاتے ہیں۔" اندر کی خاص عمارتیں یہ ہیں: دیوان عام ، دیوانِ خاص ، شیش محل ، خاص محل، حمام، موتی مسجد، نگینه مسجد ، جهانگیری محل، کتب خانه محل جودھا بائی ہشمن برج جس میں شاہ جہاں کا دور نظر بندی گزرا، مچھلی بھون اور تہہ خانے میں پتھر کے دو نہایت خوب صورت تخت بھی ہیں۔شاہ جہاں معزولی (۱۶۵۸ء) کے بعد سے وفات (۱۶۶۶ء) تک اسی قلعے میں رہا۔تاج محل (آگرہ) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے یہ مقبرہ دنیا کی حسین ترین عمارت سمجھا جاتا ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کے متاثر عمارتی طرز کا پُر تکلف طور پر آراستہ اور عظیم ترین نمونہ ہے۔مغل بادشاہ شاہجہان نے اپنی محبوب ملکہ ممتاز محل (۱۶۲۹ء) کے لیے ۱۶۳۰ء میں اس کی تعمیر کا حکم صادر کیا۔اور یہ کام جن معماروں اور