سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 795 of 900

سیر روحانی — Page 795

۷۹۵ کی حقیقت بتا دونگا۔اس سے ظاہر ہے کہ فراعنہ مصر کے زمانہ میں خصوصیت سے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قیدیوں کو قید خانہ میں کھانا دیا جاتا تھا۔جو لوگ پھانسی کے مستحق ہوتے تھے انہیں بھی کھانا دیا جاتا تھا۔اسلامی خلفاء کے زمانہ میں بھی یہی طریق رائج رہا۔لیکن افسوس کہ درمیانی عرصہ میں مسلمان اسے بھول گئے اور اسلامی ممالک میں یہ رواج ہو گیا کہ قیدیوں کو جیل خانہ سے باہر بھیک مانگنے کے لئے بھیجدیا جاتا تھا۔مجھے ایک احمدی افسر نے بتایا کہ وہ ایسے ہی ملک میں قید ہو گئے تھے کہ ظہر کے بعد ہمیں قید خانہ سے باہر نکال دیا جاتا تھا اور کہا جاتا کہ بھیک مانگ لاؤ۔جب ہم بھیک مانگ لاتے تو اچھا اچھا کھانا جیلر نکال لیتا اور خراب کھانا ہمیں دے دیتا۔بہر حال تمدن کے لحاظ سے ضروری ہے کہ قیدیوں کو بھی کھانا دیا جائے بلکہ اب تو لوگوں کی یہ رائے ہو گئی ہے کہ اگر زمیندار چاہیں کہ قیدی اُن کے کھیت میں کام کریں تو انہیں چھوڑ دینا چاہئے۔قید خانہ میں بند رہنے کی وجہ سے رشتہ داروں کی محبت کم ہو جاتی ہے اور اخلاق کمزور ہو جاتے ہیں۔لوگ اسلام پر غلامی کا اعتراض کرتے ہیں لیکن اسلام کا یہ قانون ہے کہ جنگی قیدی کو کسی کے سپرد کر دو کہ وہ اُس سے کام لے اور باہر رہنے کی وجہ سے اُس قیدی کے رشتہ دار اُ سے ملتے رہیں اور اُسے یہ محسوس نہ ہو کہ وہ دنیا سے بالکل الگ ہو گیا ہے۔قرآن کریم میں دہریت کا رڈ اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں دہریت کا رڈ بھی موجود ہے۔دہریت کے متعلق قریب زمانہ میں امریکہ اور یورپ کے ممالک میں بہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن قرآن کریم نے اس کا رڈ فرمایا ہے۔اور بتایا ہے کہ یہ خیال کرنا کہ اس دُنیا کا کوئی خالق نہیں بالکل غلط بات ہے چنانچہ فرمایا تَبَارَكَ الَّذِي بيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ هُ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُة الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفْوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ : هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورِه ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّ تَيْنِ يَنْقَلِبُ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ ١٩ ط یعنی بہت برکت والا ہے وہ خدا جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور جو ہر چیز پر قادر ہے اُس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تا کہ دیکھے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے۔اُس نے ساتوں آسمان بھی پیدا کئے ہیں اور اُن میں موافقت اور