سیر روحانی — Page 750
۷۵۰ ضرور اسپر عمل کریگا۔جھوٹے کا تو سوال ہی نہیں، جھوٹا تو خود ہی اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔منشی اروڑے خاں صاحب کے اخلاص کی ایک درد انگیز مثال مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ایک دن میاں اروڑے خان صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت ہی مقرب صحابی تھے اور نائب تحصیلدار تھے قادیان آئے۔اُس زمانہ میں آپ کپورتھلہ میں تھے اور تنخواہیں بہت کم ملا کرتی تھیں۔شروع میں نائب تحصیلدار کی پندرہ روپے تنخواہ ہوتی تھی مگر اس کے باوجود وہ ہمیشہ ہر اتوار کو قادیان آتے اور روپیہ دو روپے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نذرانہ دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب وہ آئے تو اُسوقت وہ تحصیلدار ہو چکے تھے اور تنخواہیں بھی زیادہ ہوگئی تھیں۔میں نے دیکھا کہ تین یا چار اشرفیاں انہوں نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھیں۔انہوں نے وہ اشرفیاں میرے ہاتھ پر رکھیں اور پھر چیچنیں مار کر رونے لگ گئے۔میں حیران ہوا کہ یہ روتے کیوں ہیں۔مگر جب روتے روتے ذرا ہوش آئی تو کہنے لگے کہ ساری عمر خواہش رہی کہ میں اونہاں دے ہتھ وچ سوناں رکھاں پر کدی توفیق نہ ملی۔جدوں کچھ پیسے جمع ہوندے سن۔میں پیدل چل کے کپورتھلہ تو اونہاں نوں دیکھن آجاندا ساں یاں ریل و چہ آندا ساں تاں کرایہ لگداسی۔پر جدوں سونا ملیا ہے تے اوہ بہن نہیں۔۔۔اُن کا یہ فقرہ ایسا دردناک تھا کہ مجھ پر بھی رقت آگئی۔میں نے اُنکو چُپ کرانے کیلئے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی مگر اُن کی جو مذبوح حرکت تھی اُس کو دیکھتے ہوئے در حقیقت میری کوشش بالکل بے کار اور بے سُود تھی۔یہ فِی اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ کا ایک نظارہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُن لوگوں میں سے تھے جو لوگوں سے مانگتے نہیں تھے اور ایسے لوگ بھی محروم ہی ہوتے ہیں۔مگر انہیں ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں نذرانہ پیش کریں اور خواہش بھی یہ تھی کہ سونا دیں مگر کہنے لگے۔” جدوں جیندے سن تے سونا نہیں ہتھ آیا۔سونا ہتھ آیا تے اوہ ہن نہیں۔بہن میں کی کراں۔“ یعنی جب آپ زندہ تھے تو مجھے سونا میسر نہ آیا اور جب سونا ملا تو آپ فوت ہو چکے