سیر روحانی — Page 689
۶۸۹ کر کے مجھے اس کام پر مقرر کیا گیا ہے۔میں نے کہا۔سات سو من ہی نہیں قرآن کریم کہتا ہے کہ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ اللہ تعالیٰ چاہے تو سات سو سے بھی بڑھا دے۔کہنے لگا میری تحقیقات اسوقت تک صرف اتنی ہی ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے کیمیا وی اجزاء موجود ہیں کہ فی ایکڑ اڑ ہائی سو من تک گندم پیدا ہو سکتی ہے مگر جو باہر کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں اُن سے چار سو من تک پتہ چلتا ہے۔میں نے کہا۔پھر ان کتابوں سے بھی بڑھ کر قرآن کریم میں علم موجود ہے قرآن کہتا ہے کہ فی ایکڑ سات سو من تک گندم ہو سکتی ہے۔اب دیکھو اس میں علم کیمیا کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ہم زمین کو دیکھیں کہ وہ اجزاء جن سے گندم پیدا ہوتی ہے یا کپاس پیدا ہوتی ہے زمین میں کسقد رموجود ہیں اور گندم کا دانہ یا کپاس کا بیج اُن اجزاء سے آگے کتنے زیادہ بیج پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔اسی طرح فرمایا وَقَالُوا وَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا وَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدَاهِ قُلْ كُونُوا حِجَارَةً اَوْ حَدِيدًا اَوْ خَلْقاً مِّمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ فَسَيَقُولُونَ } مَنْ يُعِيْدُنَا قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ۔یعنی کفار کہتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاں ہو جا ئینگے اور چورا ہو جا ئینگے تو کیا پھر ہم کو ایک نئی پیدائش میں اُٹھایا جائے گا۔تو اُن کو کہہ دے کہ ہڈیاں اور چورا ہونا تو الگ بات ہے اگر ۲۶ پتھر بھی بن جاؤ یا لوہا بھی بن جاؤ تب بھی خدا تعالیٰ تمہیں پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔مرور زمانہ سے انسانی جسم کا پتھر بن جانا اب بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ نَعُوذُ بِاللهِ ایک ڈھکوسلا ہے کہ پتھر بن جاؤ یا لوہا بن جاؤ پھر بھی خدا تعالیٰ تمہیں زندہ کرے گا۔ایک کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ آدمی نے پتھر کس طرح بننا ہے یونہی قرآن نے ایک ڈھکوسلا مار دیا ہے۔لیکن ابھی کوئی دو ہفتے ہوئے روس کی ایک خبر اخبارات میں چھپی ہے کہ روس میں آدمیوں کے بعض پرانے ڈھانچے ملے ہیں جو کہتے ہیں کہ کئی لاکھ سال کے ہیں اور اُن کی ہڈیاں پتھر بن چکی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے لئے مرورِ زمانہ سے پتھر بنا ممکن تھا۔یوں تو پہلے کہتے تھے کہ پتھر کا کوئلہ بھی در حقیقت درختوں سے ہی بنا ہے مگر انسانوں کے متعلق اس وقت تک کوئی تحقیق نہیں ہوئی تھی۔اب یہ تازہ علم نکلا ہے کہ انسانوں کے بعض پرانے ڈھانچے ملے ہیں جن کی ہڈیاں پتھر بن چکی ہیں اور یہ بھی قرآن کہتا ہے کہ ارے میاں! اس میں تعجب کی کیا بات ہے ہڈیاں تو الگ رہیں