سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 636 of 900

سیر روحانی — Page 636

۶۳۶ کے لوگوں کو یا فرانس کے لوگوں کو ہمارے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔انہوں نے محض قیاس کیا اور ایک شخص جس کے متعلق وہ جانتے تھے کہ وہ سوویٹ یونین کا بڑا آدمی ہے لیکن ہمیں پتہ نہیں تھا وہ ہمیں ملنے آیا ہم نے سمجھا کہ ایک عام آدمی ہم سے مل رہا ہے اور انہوں نے فوراً نوٹ کیا کہ سوویٹ یونین کا کوئی نمائندہ ان سے ملا ہے اور اس کے اوپر انہوں نے قیاس کر لیا کہ اُن کے ساتھ ان کے تعلقات قائم ہیں۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ ڈائریوں میں کس طرح غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں۔لیکن قرآنی دفتر کے ڈائری نویس کسی سے سن کر ڈائری نہیں لکھتے بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اُس کی حقیقت سے آپ واقف ہو کر لکھتے ہیں۔پھر ڈائری نویسوں میں سے بعض ایجنٹ پروو کیٹیئر ڈائری نویسوں کی دھوکا دہی (AGENT PROVOCATEUR) ہوتے ہیں یعنی اُن کو خدمت کا اور اپنی حکومت میں مشہور ہونے کا اور صلہ پانے کا شوق ہوتا ہے اور وہ جان بوجھ کر ایسی باتیں کرتے ہیں تا کہ اگلے کے منہ سے کچھ نکل جائے اور وہ اسے بالا افسروں تک پہنچا سکیں۔مثلاً مجلس لگی ہوئی ہے اور لوگ بالکل نا تجربہ کار اور سیدھے سادے بیٹھے ہیں۔ایک آدمی نے درمیان میں جان بوجھ کر بات شروع کر دی کہ گورنمنٹ بڑے ظلم کر رہی ہے۔اب ایک نا واقف شخص نے بھی کسی پر سختی کا ذکر سُنا ہو ا تھا تو اُس نے بھی کہہ دیا کہ ہاں جی میں نے بھی فلاں واقعہ سنا ہے۔اُس نے جھٹ ڈائری لکھ لی کہ فلاں شخص کہ رہا تھا کہ گورنمنٹ بڑا ظلم کر رہی ہے حالانکہ اس کا محرک وہ آپ بنا تھا۔ایسے لوگوں کو انگریزی میں ایجنٹ پروو کیٹیئر (AGENT PROVOCATEUR) کہتے ہیں۔یعنی دوسروں کو اکسا کر وہ ان کے منہ سے ایسی باتیں نکلوا دیتے ہیں جو قابل گرفت ہوتی ہیں۔جب میر ٹھ کیس ہو ا جس میں وائسرائے کے مارنے کی تجویز کی گئی تھی تو اس میں ایک پولیس افسر نے سارا کیس بنایا کہ فلاں کانگرسی کی سازش تھی ، فلاں کا نگرسی کی سازش تھی لیکن اتفاقاً جب ساری مسل بالکل تیار ہوگئی تو کسی اور جُرم میں ایک آدمی پکڑا گیا اور اُس نے اقرار کر لیا۔اُس وقت پتہ لگا کہ وہ سارے ہی اور لوگ تھے اور یہ سب کی سب جھوٹی کہانی بنائی گئی تھی۔تب جا کر یہ حقیقت کھلی اور پھر اُس شخص کو سزا بھی ملی۔میں جب ۱۹۱۲ ء میں حج کے لئے گیا تو وہاں بھی ہمارے ساتھ سفر حج کا ایک واقعہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔میرے ساتھ پانچ آدمی اور بھی ہم سفر تھے۔