سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 900

سیر روحانی — Page 43

۴۳ گئے اور آپ نے باہر ہی رہائش اختیار کر لی۔حضرت عمر کی لڑکی چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیاہی ہوئی تھیں اس لئے انہیں بھی یہ اطلاع پہنچ گئی۔حضرت عمرؓ کا طریق یہ تھا کہ آپ مدینہ میں نہیں رہتے تھے بلکہ مدینہ کے پاس ایک گاؤں تھا وہاں آپ رہتے اور تجارت وغیرہ کرتے رہتے ، اُنہوں نے ایک انصاری سے بھائی چارہ ڈالا ہو ا تھا اور آپس میں انہوں نے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ انصاری مدینہ میں آجاتا اور مدینہ کی اہم خبریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کی باتیں سُن کر حضرت عمر کو جا کر سُنا دیتا اور کبھی حضرت عمر مدینہ آ جاتے اور وہ انصاری پیچھے رہتا اور آپ اُس کو باتیں بتا دیتے ، غرض جو بھی آتا وہ تمام باتیں معلوم کر کے جاتا اور دوسرے کو بتا تا کہ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ الہام ہوا ہے۔آج آپ نے مسلمانوں کو یہ وعظ فرمایا ہے غرض اس طرح ان کی دینی تعلیم بھی مکمل ہو جاتی اور ان کی تجارت بھی چلتی رہتی۔ایک دن وہ انصاری مدینہ میں آیا ہو ا تھا اور حضرت عمرؓ پیچھے تھے کہ عشاء کے قریب اُس انصاری نے واپس جا کر زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور کہا کہ ابن خطاب ہے؟ ابن خطاب ہے ؟ حضرت عمر کہتے ہیں، میں نے جب اُس کی گھبرائی ہوئی آواز سنی اور اُس نے زور سے میرا نام لے کر دروازہ کھٹکھٹایا تو میں نے سمجھا کہ مدینہ میں ضرور کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔اُن دنوں یہ افواہ زوروں پر تھی کہ ایک عیسائی بادشاہ مدینہ پر حملہ کرنے والا ہے ، حضرت عمر کہتے ہیں میں نے سمجھا اس بادشاہ نے حملہ کر دیا ہے چنانچہ میں فوراً اپنا کپڑا سنبھالتا ہوا باہر نکلا اور میں نے اُس سے پوچھا کیا ہوا؟ وہ کہنے لگا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں گھبرا کر مدینہ کی طرف چل دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ سے عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ! آپ اپنے گھر سے باہر آ گئے ہیں آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ ! لوگ کہتے ہیں آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دیدی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں میں نے کسی کو طلاق نہیں دی۔میں نے کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ۔پھر میں نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ کو میں ایک بات سناؤں؟ آپ نے فرمایا ہاں سناؤ، میں نے کہا، يَا رَسُولَ اللهِ ! ہم لوگ مکہ میں اپنے سامنے عورت کو بات نہیں کرنے دیتے تھے، لیکن جب سے میری بیوی مدینہ میں آئی ہے وہ بات بات میں مجھے مشورہ دینے لگ گئی ہے ایک دفعہ میں نے اُسے ڈانٹا کہ یہ کیا حرکت ہے اگر پھر کبھی تو نے ایسی حرکت کی تو میں مجھے سیدھا کر دونگا تو وہ مجھے کہنے لگی، تو بڑا آدمی بنا پھرتا ہے میں نے تو دیکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں