سیر روحانی — Page 586
۵۸۶ چاہئے انہوں نے کیا قصور کیا ہے۔اُس دن سے میرے دل کو تسلی ہو گئی۔میں نے کہا۔خیر کوئی معقول اور شرعی آدمی بھی میرے اس خیال کی تصدیق کر رہا ہے۔غرض اسلام جو ہمیں تعلیم دیتا ہے وہ ایسی ہے کہ اس کے ذریعہ سے دشمن سے دشمن انسان کی گردن بھی شرم سے جھک جاتی ہے لیکن ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ تم اس تعلیم پر عمل کرو کہ جس سے دوست بھی دوست کو ذلیل سمجھنے لگ جائے۔ہاں اسلام میں یہ بات جائز ہے کہ اگر کوئی جرم قبیلہ یا علاقہ میں ایسا ہو رہا ہو کہ ثابت ہو جائے کہ علاقہ کے لوگ اُس پر پردہ ڈال رہے ہیں تو سارے علاقہ پر مجرمانہ کر دیا جائے۔ظلم انسان کو اُخروی سزا کا بھی مستحق بناتا چہارم۔یہ حکم گو ڈینوی اور سیاسی معلوم ہوتا ہے مگر فرماتا ہے یا درکھو کہ تمام اعمال اخلاقی پہلو سے رُوح پر اثر ڈالتے ہیں۔پس اگر غلطی کرو گے تو تقویٰ کو اور دین کو نقصان پہنچے گا۔پس دشمن کی خاطر نہیں بلکہ اپنے دین کے بچانے کے لئے احتیاط بر تو اور کسی پر ظلم نہ کرو۔اور چونکہ یہ امر تقویٰ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ اس غلطی کی سزا سیاسی نہیں بلکہ دینی بھی ملے گی اور خدا تعالیٰ اُخروی زندگی میں ان غلطیوں کو نظر انداز نہیں کرے گا۔تم اگر کسی ہندو پر ظلم کرتے ہو یا کسی عیسائی پر ظلم کرتے ہو یا کسی اپنے عقیدہ سے اختلاف کرنے والے پر ظلم کرتے ہو تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے اس دنیا میں ظلم کیا ہے مجھے اسی جگہ کوئی سزا مل جائے گی قیامت کے دن خدا نہیں کہے گا کہ تم ظلم کرنے والے مسلمان ہو اور جس پر ظلم کیا جاتا ہے وہ تمہارے نزدیک مسلمان نہیں وہ ہندو کہلاتا ہے یا عیسائی کہلاتا ہے بلکہ خدا کہے گا کہ چونکہ تم نے ضمیر کی حریت کو ٹچلا اس لئے میں تمہیں سزا دونگا۔ہر اخلاقی کمزوری مذہب اور روحانیت پر اثر انداز ہوتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اپنے اعمال کو اکثر اخلاق سے جدا کر کے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں ایک اچھا نمازی تجارت میں دھو کا کر لیتا ہے۔بڑا نمازی ہوتا ہے خوب وظیفے کرتا ہے لیکن تجارت میں آکر پھٹا ہو ا تھان اور تھانوں میں ملا کر دے دے گا کپڑا نا پے گا تو چندر گرہ کم دے گا اور اُسکا ضمیر اُسے بالکل ملامت نہیں کرے گا۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ڈپٹی صاحب تھے جو تہجد بڑی باقاعدگی کے