سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 900

سیر روحانی — Page 581

۵۸۱ مرواؤں گا۔اُس نے اُس وقت تو بہا نہ بنایا اور کہا۔نہیں نہیں ! میں نے تو کچھ نہیں کیا۔مگر کہہ کر واپس گیا اور اُسی وقت گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے ملک کو واپس چلا گیا اور وہاں جا کر مرتد ہو گیا۔۳۹ے غور کرو! کتنی بڑی طاقت تھی ایک مزدور کے لئے۔ایک بادشاہ جاتا ہے اور کہتا ہے اس نے میری ہتک کی ہے تو حضرت عمر کہتے ہیں کہ تم نے اسے مارا ہے تو میں ضرور سزا دونگا۔خلافت راشدہ کے عہد میں راشن سسٹم کا اجراء یہ وہ چیز تھی جو مسلمانوں نے اپنی حکومت میں کی۔راشن اور کپڑے کا سسٹم جاری ہوا ، امیر اور غریب سب کے لئے حکم ہوا کہ اُن کو کپڑے ملا کریں گے اور کھا نا ملا کرے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا کہ جو راشن اور کپڑا ملا کرے گا اس میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہ کیا جائے ہر مذہب وملت کے آدمی کو اُس کا راشن دیا جائے۔ایک بادشاہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان ہوا تو اُس نے کہلا بھیجا کہ میرے پاس ایسے لوگ ہیں جو غیر مذاہب کے ہیں میں اُن کے ساتھ کیا سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا اُن کے ساتھ انصاف کا سلوک کرو پیار کا سلوک کرو اور اگر تمہارے پاس ایسے لوگ ہوں چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم کہ اُن کے پاس کافی زمین وغیرہ نہ ہو اور کافی غلہ نہ پیدا کر سکتے ہوں تو پھر سرکاری خزانہ سے انہیں غلہ مہیا کرو۔۴۰ اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک ایک غلام کے معاہدہ کا احترام شمن فوج گھر گئی اور اس نے سمجھ لیا کہ آب ہماری نجات نہیں ہے اسلامی کمانڈر دباؤ سے ہمارا قلعہ فتح کر رہا ہے اگر اُس نے فتح کر لیا تو ہم سے مفتوح ملک والا معاملہ کیا جائے گا۔ہر مسلمان مفتوح ہونے اور صلح کرنے میں فرق سمجھتا تھا۔مفتوح کے لئے تو عام اسلامی قانون جاری ہوتا تھا اور صلح میں جو بھی وہ لوگ شرط کر لیں یا جتنے زائد حقوق لے لیں لے سکتے تھے۔انہوں نے سوچا کہ کوئی ایسا طریق اختیار کرنا چاہئے جس سے نرم شرائط پر صلح ہو جائے۔چنانچہ ایک دن ایک حبشی مسلمان پانی بھر رہا تھا اُس کے پاس جا کر انہوں نے کہا کیوں بھئی ! اگر صلح ہو جائے تو وہ لڑائی سے اچھی ہے یا نہیں ؟ اُس نے کہا ہاں ! اچھی ہے۔وہ حبشی غیر تعلیم یافتہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پھر کیوں نہ اس شرط پر صلح ہو جائے کہ ہم اپنے ملک میں آزادی سے رہیں اور ہمیں کچھ نہ کہا جائے ہمارے مال ہمارے پاس رہیں اور