سیر روحانی — Page 493
۴۹۳ ایک معمولی شکر رنجی کے موقع پر اسی طرح ایک دفعہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میں کسی بات پر شکر رنجی ہو گئی۔غلطی حضرت عمرؓ حضرت ابوبکر کے پاکیزہ جذبات کی تھی مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرؓ پر ناراض ہونے لگے تو حضرت ابو بکر آگے بڑھے اور کہنے لگے یا رَسُولَ اللہ امیر ا قصور تھا عمر کا کوئی قصور نہیں تھا۔2 گویا جس طرح ایک ماں اپنے بچے کے متعلق اُستاد سے شکایت کرتی ہے لیکن جب وہ ڈانتا ہے تو سب سے زیادہ دُکھ بھی ماں کو ہی ہوتا ہے یہی حال صحابہ کا تھا اُن کے دلوں میں اپنے بھائیوں کی اتنی محبت پائی جاتی تھی کہ وہ ان کی معمولی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔حضرت عمررؓ کا ایک بدوی عورت کے بچوں کے فاقہ پر تلملا اٹھنا حضرت عمر کو دیکھ لو اُن کے رُعب اور د بد بہ سے ایک طرف دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ کا نپتے تھے ، قیصر و کسریٰ کی حکومتیں تک لرزہ براندام رہتی تھیں مگر دوسری طرف اندھیری رات میں ایک بدوی عورت کے بچوں کو بھوکا دیکھ کر عمر جیسا عظیم المرتبت انسان تلملا اٹھا اور وہ اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری لا دکر اور گھی کا ڈبہ اپنے ہاتھ میں اُٹھا کر اُن کے پاس پہنچا اور اُس وقت تک واپس نہیں لوٹا جب تک کہ اُس نے اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر اُن بچوں کو نہ کھلا لیا اور وہ اطمینان سے سو نہ گئے۔۹۸ عبادت الہی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغراق پھراللہ تعلی نے بتایا تھا کہ محمد رسول اللہ اور آپ کے ساتھی صرف أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ اور رُحْمَاءُ بَيْنَهُمْ ہی نہیں بلکہ رُكَّعاً سُجَّدًا کے بھی مصداق ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ خوبی بھی اُن میں نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث سے ثابت ہے کہ آپ رات کو اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی اتنی دیر عبادت میں کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے۔29 ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ يَا رَسُولَ الله ! آپ اس قدر عبادت کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔فرمایا اے عائشہ ! کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ ۱۰۰