سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 900

سیر روحانی — Page v

J۔قادیان سے حیدر آباد دکن کے سفر پر روانہ ہوئے۔سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد ریاست حیدر آباد مسلمانوں کی تہذیب و تمدن اور علم وفن کا سب سے بڑا مرکز تھی وہاں کے حالات و واقعات کا جائزہ لے کر عام مسلمانوں کی بہبود اور جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ سفر کی غرض وغایت تھی۔حضور یکم اکتوبر ۱۹۳۸ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور سندھ سے ہوتے ہوئے کراچی سے بمبئی اور پھر حیدر آباد پہنچے۔اسی سفر کے دوران آپ آگرہ اور دہلی بھی تشریف لے گئے اور ۲۹ اکتوبر ۱۹۳۸ء کو قادیان واپس پہنچے۔اس سفر کے دوران حضور نے جو مختلف تاریخی مقامات اور نظارے مشاہدہ فرمائے اُن کی تعداد آپ نے ۱۶ بیان فرمائی ہے جو درج ذیل ہیں۔قلع، مقابر، مساجد، مینار، نوبت خانے ، باغات، دیوانِ عام، دیوان خاص، لنگر خانے، دفاتر ، کتب خانے، مینا بازار، جنتر منتر سمندر اور آثار قدیمہ۔حضرت مصلح موعود نے اس سفر کے دوران جن ۱۶ مادی اشیاء کا مشاہدہ کیا ، ان کے مقابل پر عالم روحانی میں ان کے مشابہ اور مماثل امور کو نہایت وجد آفریں اور اثر انگیز پیرایہ میں بیان کرتے ہوئے جلسہ ہائے سالانہ کے مواقع پر سیر روحانی“ کے نام سے سلسلۂ تقاریر شروع فرمایا۔یہ سلسلہ ۱۹۳۸ء سے شروع ہو کر ۱۹۵۸ء تک وقفے وقفے سے جاری رہا۔حضور کی یہ پر معارف تقاریر سیر روحانی جلد اول، دوم اور سوم کے نام سے طبع ہو کر اپنوں اور غیروں میں مقبول ہوئیں۔پہلی جلد ۱۹۳۸ء، ۱۹۴۰ء اور ۱۹۴۱ء کی تقاریر پر مشتمل تھی۔دوسری جلد میں ۱۹۴۸ء ،۱۹۵۰ء اور ۱۹۵۱ء کی تقاریر شامل تھیں جبکہ تیسری جلد ۱۹۵۳ء ۱۹۵۴ء، ۱۹۵۵ء،۱۹۵۶ء ۱۹۵۷ء اور ۱۹۵۸ء کی تقاریر پر مشتمل تھی۔یہ سلسلہ تقاریر پیش گوئی مصلح موعود کے اِن الفاظ کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔“ کی عظیم الشان صداقت کا بین ثبوت ہے۔ان تقاریر میں حضرت مصلح موعود کی سلطان البیانی کا بھی اظہار ہوتا ہے اور یہ حقائق و معارف کے بیان کے ساتھ ساتھ عظیم المرتبت خطابت کا بھی شاہکار ہیں۔ان پر کیف تقاریر کو پڑھ کر روح وجد میں آ جاتی نمونہ کے طور پر صرف ایک اقتباس درج کرنا کافی ہوگا۔۲۸ دسمبر ۱۹۵۳ء کی تقریر