سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 900

سیر روحانی — Page 456

۴۵۶ جھوٹے یا سچے طور پر شرک کا قائل رہے گا۔مسلمان یوں تو اللہ اللہ نفس گنہگار کی تسلی کے لئے شرک ایک ضروری چیز ہے کرتے ہیں لیکن جب ان کا دل چاہتا ہے کہ اسلامی احکام کو توڑ دیں تو توڑ دیتے ہیں مگر ساتھ ہی اُن کا دل پھر یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ جنت میں بھی جائیں اس لئے کہتے ہیں فلاں بزرگ کی قبر پر چڑھاوا چڑھا دیا تو جنت میں چلے گئے ، فلاں کی بیعت کر لی تو چلو جنت مل گئی۔پس شرک نفس گنہگار کو تسلی دینے کا ایک ذریعہ لوگوں نے بنایا ہوا ہے جب تک نفس گنہ گار باقی رہے گا شرک کسی نہ کسی شکل میں باقی رہے گا حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ہماری ایک بہن تھیں جو کسی پیر صاحب کی مرید تھیں ایک دفعہ قادیان مجھے ملنے کے لئے آئیں تو میں نے کہا بہن! تم احمدی نہیں ہوتیں اس کی وجہ کیا ہے؟ کہنے لگیں ہم نے پیر پکڑ لیا ہے اور پیر صاحب کی بیعت کر لی ہے اب ہمیں کسی اور کی ضرورت نہیں۔میں نے کہا پیر صاحب کی بیعت نے تمہیں فائدہ کیا دیا ہے کہنے لگی فائدہ یہ دیا ہے کہ وہ کہتے ہیں اب تم نے ہماری بیعت کر لی ہے اس لئے اب تمہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں جو تمہاری مرضی ہو کر و تمہارے گناہ ہم نے اُٹھا لئے ہیں اور اب تمہارے سب گناہوں کے ہم جوابدہ ہیں۔میں نے کہا اچھا بہن اب جاؤ گی تو اُن سے پوچھنا کہ ایک ایک گناہ کے بدلہ میں جو لوگوں کو اتنی جوتیاں قیامت کے دن پڑنی ہیں جن کی حد نہیں تو جب آپ نے ہم سب کے گناہ اُٹھا لئے ہیں تو آپ کو کتنی جوتیاں پڑیں گی؟ چنانچہ وہ گئی اور پھر واپس آئی تو میں نے کہا پوچھا تھا؟ کہنے لگی ہاں پوچھا تھا مگر وہ سوال تو پیر صاحب نے حل کر دیا۔میں نے کہا کس طرح؟ کہنے لگی پیر صاحب نے کہا دیکھو جب تم پل صراط پر جاؤ گی اور فرشتے پوچھیں گے کہ تمہارے یہ یہ گناہ ہیں تو تم کہہ دینا ہمیں کچھ پتہ نہیں یہ پیر صاحب کھڑے ہیں ان سے پوچھو۔جیسے ریلوے سفر میں ایک ایک کے پاس ٹکٹ ہوتے ہیں اور ریل والے پوچھتے ہیں کہ ٹکٹ کہاں ہے تو ان سے کہا جاتا ہے کہ فلاں سے لے لو اسی طرح وہاں ہوگا۔کہنے لگی اچھا پیر صاحب ! جب وہ آپ سے پوچھیں گے تو آپ کیا کہیں گے؟ کہنے لگے جب فرشتوں نے ہم سے پوچھا تو ہم آنکھیں سرخ کر کے کہیں گے شرم نہیں آتی کربلا میں ہمارے دادا نے جو قربانی دی تھی کیا اس کے بعد ہم سے پوچھنے کی کوئی ضرورت رہ گئی ہے اور فرشتے شرمندہ ہو کر ایک طرف ہو جائیں گے اور ہم دگڑ دگر کر کے جنت میں پہلے جائیں گے۔