سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 900

سیر روحانی — Page 451

۴۵۱ لیتے ہیں۔دوسرے معنے رجز کے عذاب کے تھے اس کے لحاظ سے آیت کے یہ معنے بن جائیں گے کہ تو عذاب کو دنیا سے مٹا دے ان معنوں کے رو سے مندرجہ ذیل مطالب اس آیت کے نکلتے ہیں۔تعذیب نفس کی ممانعت نفس کی ممانعت اول اسلام اول اسلام سے پہلے مختلف ادیان میں تعذیب نفس کو روحانیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا مثلاً کہتے تھے کہ بیٹے کی قربانی خدا کے قریب کر دیتی ہے۔یہ سمجھا جاتا تھا کہ شادی نہ کرنا، رہبانیت اختیار کرنا اور اپنے نفس کا بریکار کر دینا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔ہتھیار کے ساتھ اپنے آپ کو ہیجڑا بنا لینا یہ بڑی نیکی ہے۔اپنے آپ کو الٹا لٹکائے رکھنا یعنی سر نیچے اور ٹانگیں اوپر کر لینا، یہ بڑی نیکی ہے۔ٹھنڈے موسم میں دریا میں بیٹھے رہنا یہ بڑی نیکی ہے، گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھ رہنا یہ بڑی نیکی ہے، جسم پر کوڑے لگانا یہ بڑی نیکی ہے۔اچھی اور پاکیزہ چیزیں نہ کھانا یہ بڑی نیکی ہے۔پس فرماتا ہے ہم نے ان تمام باتوں کی تیرے ذریعہ سے اصلاح کر دی ہے اور ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ وہ تمام احکام جن کو دین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، جن کو روحانیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، جن میں انسان کے دل کو یا جسم کو یا دماغ کو عذاب دیا جاتا تھا وہ ساری کی ساری چیزیں منسوخ کی جاتی ہیں۔خدا سے ملنے کے لئے اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کا ناک کاٹا جائے یا کسی کو الٹا لٹکایا جائے۔خدا کے ملنے کے لئے روحانی ذرائع ہیں یہ غلط طریق تھے جو دنیا نے جاری کئے ہوئے تھے۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جا اور ان کو منسوخ کر اور دنیا کو بتا دے کہ یہ غلط طریق تھے جو اس نے اختیار کر لئے تھے۔عورتوں کو کالمُعَلَّقَہ چھوڑنے اور اسی طرح عورتوں کو مُعَلَّقہ چھوڑا جاتا تھا یہ بھی تعذیب تھی ، آگ کا عذاب دیا جاتا تھا آگ کا عذاب دینے کی ممانعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کسی کو آگ کا عذاب دینے کی اجازت نہیں یہ خدا کا حق ہے کہ وہ جہنم میں ڈالتا ہے تمہیں حق نہیں کہ ایسا کرو۔غلامی کی ممانعت اسی طرح دنیا میں غلامی کا رواج تھا انسان کی آزادی کو چھین لیا جا تا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ یہ عذاب بند کیا جاتا ہے اب کوئی غلامی نہیں۔اسے