سیر روحانی — Page 401
۴۰۱ فرماتا ہے آسمان کا رہنے والا ہو یا زمین کا رہنے والا، ہر ایک اپنی ضرورت خدا تعالیٰ سے مانگتا ہے۔یہاں سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ کیا آدمی کی ہر ضرورت پوری ہو جاتی ہے ؟ اس کے متعلق فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ نہ صرف ہر مانگنے والے کی ضرورت کو پورا کرتا ہے بلکہ ہر روز وہ نئی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ایک نئی شان میں جلوہ گر ہوتا ہے۔پہلے بندہ کہتا ہے خدایا مجھے فلاں چیز چاہئے اور خدا تعالیٰ اسے وہ چیز دے دیتا ہے۔پھر وہ اور چیز مانگتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے وہ چیز بھی دے دیتا ہے اس طرح وہ مانگتا چلا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے دیتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ہر روز ایک نئی شان سے جلوہ گری آخر مانگتے مانگتے اسے خیال آتا ہے کہ اب میں کیا مانگوں؟ میں نے تو اس سے بہت کچھ مانگ لیا ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتا ہے اور فرماتا ہے آج تو ہم ایک نئی شان میں تمہارے سامنے جلوہ گر ہوئے ہیں پچھلی ضرورتوں کا خیال جانے دواب ہم سے اور مانگو ہم تمہیں دینے کے لئے تیار ہیں۔پہلے تم نے اس شان کو دیکھا تھا جو گزر چکی اب تم ہماری اس نئی شان کا مشاہدہ کرو اور جو کچھ مانگنا چاہتے ہو مجھ سے مانگو۔غرض یہ دربار عام وہ ہے جس میں سب مانگتے ہیں ہر روز ما نگتے ہیں اور ہر روز انہیں نئے انعام ملتے ہیں دُنیوی اور اُخروی ترقیات کا ایک تسلسل جاری ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔علوم قرآنیہ کے انکشاف کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوسکتا کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں دنیا کے سامنے آتا ہے اور ہر روز وہ نیا احسان دنیا پر کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے مگر آج وہی مسلمان جن کی کتاب میں یہ تعلیم موجود تھی جو دنیا کی کسی اور کتاب میں موجود نہیں اِس قرآن کو ماننے والا مولوی یہ کہتا ہے کہ رازگی کے بعد اب کوئی نئی تفسیر نہیں ہو سکتی ، ابن حیان جو مضمون بیان کر چکا اس پر اب اور کوئی مضمون بڑھایا نہیں جا سکتا ، جس کے معنی یہ ہیں کہ ان بزرگوں کی وفات کے بعد اب نَعُوذُ بِالله خدا تعالیٰ کا خزانہ خالی ہو چکا ہے جو معارف اور علوم وہ دے چکا سو دے چکا اب معرفت کی کوئی نئی بات بنی نوع انسان پر نہیں کھل سکتی ، روحانیت کا کوئی نیا راز بنی نوع انسان پر منکشف نہیں ہو سکتا۔گویا وہ دروازہ جسے خدا تعالیٰ نے گھلا قرار دیا تھا اُسے اِن مولویوں نے بند سمجھ لیا اور وہ روحانی انعامات جن کے متواتر نزول کی اُس نے بشارت دی تھی ان