سیر روحانی — Page 368
۳۶۸ سمجھی جا سکتی ہے کہ اسے اپنی پہلی بیوی سے محبت نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اسے اپنی پہلی بیوی سے محبت نہیں تو کتنا جبر ہے جو شریعت اس پر کرتی ہے۔وہ چوبیس گھنٹے اپنی اس بیوی کے پاس گزارتا ہے جس سے اسے محبت ہے تو شریعت کہتی ہے اُٹھاؤ اپنا بستر اور جاؤ دوسری بیوی کے پاس اور اس کے پاس بھی اسی طرح چوبیس گھنٹے گزارو۔وہ اپنی نئی بیوی کے لئے جس سے اسے محبت ہوتی ہے کوئی زیور یا کپڑا تیار کر کے لاتا ہے تو شریعت کہتی ہے اب جاؤ اور اسی قسم کا کپڑا اور اسی قسم کا زیور اپنی دوسری بیوی کو دے آؤ۔غرض قدم قدم پر شریعت اس کے جذبات پر ایسا جبر کرتی ہے کہ اس کے بعد یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ دوسری شادی کرنے والا عیاشی کا ارتکاب کرتا ہے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی ایک بیوی جنہیں ہم بچپن میں مولویانی کہا کرتے تھے وہ ایک دفعہ ہمارے ہاں آئیں۔میں اُن دنوں شدید بیمار تھا اور مجھ سے اُٹھا بھی نہیں جاتا تھا، پھر بھی میں سہارا لے کر دوسری بیوی کے گھر گیا۔وہ مجھے دیکھ کر کہنے لگیں یہ کیسی قابل رحم حالت ہے کہ اُٹھا جاتا نہیں مگر دوسری بیوی کے گھر جا رہے ہیں۔اب بتاؤ اس میں عیاشی کی کونسی بات ہے ، عیاشی تو تب ہو جب وہ صرف ایک بیوی سے تعلق رکھے اور دوسری کو نظر انداز کر دے۔میری یہ بات سنکر وہ کہنے لگے کہ آپ کی اور بات ہے۔میں نے کہا اگر میرے جیسا بن جانے سے یہ بات قابلِ اعتراض نہیں رہتی تو آپ بھی اچھے آدمی بن جائیں بُرے کیوں بنے ہوئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں میں حکمت پھر میں نے انہیں کہا جب ہم ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں تو اس کی وجوہات ہوتی ہیں۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی شادیاں کیں مگر اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ کے سپر د تمام عورتوں کی تعلیم و تربیت کا کام تھا اور یہ اتنا بڑا کام تھا کہ آپ اکیلے اسے سنبھال نہیں سکتے تھے اس لئے ضروری تھا کہ آپ زیادہ شادیاں کرتے تا زیادہ سے زیادہ تعداد میں ایسی عورتیں تیار ہو سکتیں جو اسلام میں داخل ہونے والی مستورات کی نگرانی کرتیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا کام سرانجام دیتیں۔میں بھی ایک قوم کا لیڈر ہوں میرے پاس سینکڑوں عورتیں آتی ہیں اور وہ اپنی مصیبتیں اور مشکلات بیان کرتی ہیں ، ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا ، ان کی تعلیم کا انتظام کرنا اور ان کی تنظیم کو مکمل کرنا یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو کوئی غیر عورت نہیں کرسکتی۔یہ کام اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ میں اپنی بیویوں کو تعلیم دوں اور وہ ان