سیر روحانی — Page 357
۳۵۷ نہیں چلی موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال بعد حضرت عیسی علیہ السلام آئے مگر انہوں نے نہیں کہا کہ اب موسوی سلسلہ ہی قیامت تک قائم رہے گا بلکہ انہوں نے کہا تو یہ کہ : - ”دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم مجھے پھر ہرگز نہ دیکھو گے جب تک نہ کہو گے کہ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔۵۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال کے بعد جو شخص آیا اُس نے کہا میں اس لئے آیا ہوں تا قیامت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گورنر جنرل ہونے کا اعلان کروں۔دنیاوی حکومتوں کی ناپائیداری دنیا میں بادشاہ اپنی حکومت کا اعلان کرتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ ان کی حکومت ایک لمبے عرصہ تک قائم رہے گی لیکن چند سال کے بعد ہی ایک نیا انقلاب پیدا ہو جاتا ہے اور اُن کی جگہ کوئی اور حکومت ملک پر قابض ہو جاتی ہے۔دیکھو ۱۹۱۱ ء میں جارج پنجم نے دلّی میں ایک بہت بڑا دربار منعقد کیا اور اس بات پر بڑی خوشی کا اظہار کیا گیا کہ اب انگریزی حکومت ہندوستان میں مستحکم ہو گئی ہے لیکن اس اعلان پر ابھی چھتیں سال گزرے تھے کہ ۱۹۴۷ ء میں انگریز اپنا بوریا بستر باندھ کر یہاں سے چلے گئے۔یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو چند سال میں ہی رونما ہو گیا۔لیکن یہاں تیرہ سو سال پہلے اعلان ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قیامت تک قائم رہے گی اور تیرہ سو سال کے بعد کوئی سید نہیں ، قریش نہیں بلکہ اُس قوم کا ایک فرد جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کافر تھی جو اسلام کو جانتی تک نہ تھی اور اُس نے بعد میں اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے خون کی ندیاں تک بہا دیں اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہے کہ میں اسلام کو دنیا کے تمام دوسرے ادیان پر غالب کروں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کا جھنڈا دنیا میں گاڑ دوں۔خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آنے والے موعود کی خبر دیتے ہوئے سلمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو اس کی قوم میں سے ایک فارسی الاصل شخص اُٹھے گا جو ایمان کو پھر لوگوں کے قلوب میں زندہ کر دیگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم