سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 900

سیر روحانی — Page 355

۳۵۵ اندازہ لگا سکیں کہ ہمارے سامنے جو دعویٰ پیش کیا جا رہا ہے اس میں سچائی پائی جاتی ہے اور یہ ہمیشہ کے لئے ہے۔فرماتا ہے قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاً خِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَّلَا تَسْتَقْدِمُونَ فرمایا اس کا پتہ تم کو ایک ہزار سال میں لگے گا۔بڑی سے بڑی نبوت جو آج تک چلی ہے وہ ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہی۔آدم علیہ السلام کا زمانہ لے لو، نوح علیہ السلام کا زمانہ لے لو، موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ لے لو، کوئی زمانہ بھی ہزار سال سے زیادہ لمبا نہیں رہا۔موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ بظاہر دو ہزار سال کا نظر آتا ہے لیکن وہاں تیرہ سو سال کے بعد جو نبی آیا اُس نے آتے ہی یہ کہہ دیا کہ اب موسیٰ علیہ السلام کی نبوت ختم ہونے والی ہے اور وہ نبی دنیا میں ظاہر ہونے والا ہے جس کے متعلق تمام انبیاء اپنے اپنے زمانہ میں پیشگوئیاں کرتے چلے آئے ہیں۔گویا مسیح علیہ السلام نے آمد کے ساتھ سلسلہ موسویہ کے امتداد کی خبر نہیں دی بلکہ ایک نئے دور کے آغاز کی خبر دیدی اور بتایا کہ پہلا سلسلہ ختم ہونے والا ہے۔مسلمانوں کے ہزار سالہ دور تنزل کی قرآن کریم میں خبر فرض ہزار سال وہ میعاد ہوتی ہے جس میں کسی قوم کو یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ اب پرانی نبوت ختم ہو گئی ہے اور نئی نبوت کا دور شروع ہونے والا ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے۔یہاں دن سے مراد ہزار سالہ زمانہ ہے چنانچہ قرآن کریم خود اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے - يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةٌ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ! فرمایا ہم اس دنیا میں ایک نیا نظام قائم کرینگے اور آسمان سے زمین پر اپنے انوار کی بارش برسائیں گے مگر پھر آہستہ آہستہ وہ نظام کمزور ہوتا چلا جائے گا اور دنیا یہ سمجھے گی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت اب ختم ہوگئی ہے۔دنیا یہ سمجھے گی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت اب ختم ہوگئی ہے اور یہ دور تنزل تمہاری گنتی کے لحاظ سے ایک ہزار سال تک چلتا چلا جائے گا۔بہائیوں کا ایک غلط استدلال بہائی لوگ قرآن کریم کی اس آیت سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر کہتے ہیں کہ گویا ہزار سال کے بعد نَعُوذُ بِاللهِ شریعت اسلام منسوخ ہو جائے گی حالانکہ شریعتِ اسلام تو تب منسوخ ہو سکتی تھی جب کہ یکدم قرآن خراب ہو جاتا اور وہ دنیا کے لئے ناقابل عمل ہو جاتا ، لیکن اس آیت میں یہ نہیں بتایا گیا