سیر روحانی — Page 346
۳۴۶ ستے کے پاس لے گیا جو کٹورا ہاتھ میں لئے اسی طرح پانی تقسیم کر رہا تھا۔میرے ساتھی نے اُس سے کہا کہ ہمیں پانی پلاؤ اُس نے کٹورا بھر کر دیا اور جب ہم پانی پی چکے تو وہ خاموشی کے ساتھ سیدھا کھڑا ہو گیا اور تھوڑے توقف کے بعد چلا گیا۔میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ کیا تماشا ہوا ؟ اُس نے کہا ، باقی سقوں کو دیکھو سے پانی پلانے کے بعد اپنا ہاتھ بڑھا دیتے ہیں کہ لاؤ ہمیں کچھ معاوضہ دو اور پانی پینے والے انہیں پیسہ دو پیسے یا دھیلہ دے دیتے ہیں اور یہ کچھ نہیں کرتا، پانی پلاتا ہے اور پھر اکڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کچھ دیر توقف کے بعد منہ پھیر کر چلا جاتا ہے مانگتا کچھ نہیں کیونکہ یہ شہزادہ ہے اور گو یہ اب لوگوں کو پانی پلاتا ہے مگر اس کی آن اب بھی قائم ہے اگر کوئی دیدے تو لے لیتا ہے اور نہ دے تو چُپ کر کے واپس چلا جاتا ہے۔چنانچہ بعد میں ہم نے اسے کچھ دیا بھی مگر یہ نظارہ بتاتا ہے کہ ان شہزادوں کی کیا سے کیا حالت ہو چکی ہے۔یہ ساری کیفیت میری آنکھوں کے سامنے آگئی۔مسلمانوں کے شاندار عہدِ ماضی کی یاد آخر سات سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی۔راس کماری سے ہمالیہ کی چوٹیوں تک اور پشاور سے لیکر مشرقی پاکستان کے کناروں تک مسلمان حاکم تھا۔مسلمان قوتِ فعال تھا، مسلمان ہی کے پاس فوج تھی ، مسلمان کے پاس تجارت تھی ، مسلمان ہی کے پاس زراعت تھی ، مسلمان ہی کے پاس علم تھا، مسلمان ہی کے پاس یونیورسٹیاں تھیں، مسلمان ہی کے پاس ہسپتال اور شفا خانے تھے اور مسلمان ہی کے پاس حکومت تھی مگر جس وقت میں تغلق کے قلعہ کی چوٹی پر کھڑا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا میں نے دیکھا کہ اب انگریز حاکم تھا، ہند و تمام محکموں پر قابض، تجارت پارسیوں اور میواڑیوں کے ہاتھ میں تھی ، یونیورسٹیاں ہندوؤں اور انگریزوں کے ہاتھ میں تھیں اور مسلمان ہر جگہ دستر خوان کے گرے ہوئے ٹکڑوں کا محتاج تھا۔اگر کسی نے کچھ ڈال دیا تو ڈال دیا ورنہ اُس کا کسی چیز میں حق نہیں تھا۔گھروں میں بیٹھے ہوئے بھی یہ گزشتہ تاریخ انسان کے دل کو کپکپا دیتی ہے مگر تغلق کے قلعہ پر جو ایسی جگہ بنا ہوا تھا جہاں ساری دتی پر نگاہ دوڑائی جا سکتی تھی ، یہ تاریخ تجسم کا رنگ اختیار کر کے میری آنکھوں کے سامنے آ گئی۔میں نے سوچا اور غور کیا کہ جہاں قدم قدم پر اسلام کی شان بلند ہوتی تھی ، جہاں قدم قدم پر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے جاتے تھے ، جہاں قدم قدم پر مسلمانوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے زمین روندی جاتی تھی اور بڑی بڑی طاقتیں ان سے ٹکر کھانے سے گھبراتی تھیں آج