سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 900

سیر روحانی — Page 345

۳۴۵ نے کہا میں نے بہت کچھ پا لیا مگر میں اس وقت تم کو نہیں بتا سکتا اگر اللہ نے چاہا تو میں جلسہ سالانہ پر بتاؤں گا کہ میں نے کیا پایا اس وقت تم بھی سن لینا۔سولہ عجائبات سفر میں نے جو چیز میں وہاں دیکھیں اور جو اپنے لیکچر میں میں نے گنی بھی ہیں وہ سولہ بڑی بڑی چیزیں تھیں۔اول قلع، دوم بادشاہوں کے مقابر ، سوم مساجد، چوتھے ایک وسیع اور بلند تر مینار، پانچویں نوبت خانے ، چھٹے باغات، ساتویں دیوانِ عام ، آٹھویں دیوانِ خاص ، نویں نہریں، دسویں لنگر خانے ، گیارہویں دفاتر ، بارہویں کتب خانے، تیرھویں مینا بازار، چودھویں جنتر منتر ، پندرھویں سمندر، سولہویں آثار قدیمہ۔عبرت کا مقام یہ سولہ چیزیں تھیں جن کا میری طبیعت پر خاص اثر ہوا میں نے جب ان کے متعلق غور کیا تو میں نے دیکھا کہ سمندر کے علاوہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ چیز ہے اور سب کی سب تباہ و برباد ہو گئیں۔نہریں سوکھ گئیں ، مینار ٹوٹ پھوٹ گئے اور مسجدیں بہت سی بر باد اور بہت سی غیر آباد ہو گئیں ، کتب خانوں کی خبر گیری کرنے والے کوئی نہ رہے، جنتر منتر تماشا بن کر رہ گئے غرض تمام یادگاریں جو اپنے زمانہ میں دنیا کو محو حیرت بنا دیتی تھیں آج ویران ہو چکی تھیں، برباد ہو چکی تھیں ، تباہ وخستہ حال ہو چکی تھیں اور اپنے بنانے والوں کے انجام پر رورہی تھیں۔جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے اپنے دل میں کہا یہ دنیا کیسی عبرت کی جگہ ہے کہ انسان جتنا اونچا ہوتا ہے اتنا ہی گرتا ہے۔ایک چوڑھے کا بچہ آج سے ہزار سال پہلے بھی چوڑھا تھا اور اب بھی وہ چوڑھا ہے آج اُس کا چوڑھا ہونا اُس پر گراں نہیں گزرتا کیونکہ وہ جیسا پہلے تھا ویسا ہی آج بھی ہے۔مگر یہاں یہ کیفیت ہے کہ آج سے پانچ یا چھ پشت پہلے ایک شخص ہندوستان کا بادشاہ ہے اور آج وہ پانی بھرتا یا سڑکوں کی صفائی کرتا ہے۔اگر وہ نسلاً بعد نسل سے کا کام کر رہا ہوتا تو اس پر کوئی گراں نہ گزرتا مگر وہ ایک ایک قدم پر آہیں بھرتا ہے ، وہ ایک ایک سانس پر حسرت اور اندوہ کے جذبات میں بہہ جاتا ہے، وہ حیران ہوتا ہے اپنے ماضی پر اور افسوس کرتا ہے اپنے حال پر۔میں نے خود اپنی آنکھ سے دلی میں بعض شاہی گھرانوں کے شہزادوں کو مشکیں اُٹھائے لوگوں کو پانی پلاتے دیکھا ہے۔میں چھوٹا تھا کہ ا یکدفعہ میں دتی گیا میرا ایک عزیز مجھے کہنے لگا چلو تم کو ایک تماشا دکھاؤں۔وہ مجھے جامع مسجد کے پاس لے گیا وہاں سے مشکیں اُٹھائے آنے جانے والوں کو پانی پلا رہے تھے۔وہ مجھے ایک