سیر روحانی — Page 318
۳۱۸ (۳) شاید ہوا و حرص کے جذبات پھیپھڑے بن کر اسے نظر آ رہے ہیں۔مگر تم اس کا کیا جواب دو گے کہ اُس نے یہ مینار پر نزول ایک دفعہ نہیں دیکھا بلکہ دو دفعہ دیکھا ہے اور پھر اس نزول کو سِدْرَةُ الْمُنتَھی کے نزدیک دیکھا ہے یعنی پیشگوئیوں کے مطابق دیکھا ہے ان کے بغیر نہیں۔کیا کسی جھوٹے کے لئے یہ ممکن ہے کہ جب جب اس کی قوم کی مصیبت میں مبتلاء ہو ایک آسمانی وحی کا مدعی اس کی تائید کے لئے کھڑا ہو جائے اور وہ کھڑا بھی اس جھوٹے کے دعوئی کے مطابق ہو اور پھر دنیا میں کامیاب بھی ہو جائے۔افق مُبین میں ظاہر ہونے والا ستارہ یہ پیشگوئیاں کیا تھیں ، جن کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔سو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ پیشگوئیاں یہ تھیں۔اوّل وہ النجم ہو گا ، یعنی دشمنان محمد کو تباہ کریگا۔وَلَقَدْرَاهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِینِ سے وہ مشرق سے ظاہر ہوگا ، حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ وہ شَرْقِيَّ دِمَشْق ۳ نازل ہوگا۔سوم وه عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ نازل ہوگا۔۳۳ الْمَنَارَةُ الْبَيْضَاءُ سے کیا مراد ہے؟ اس جگہ الْمَنَارَةُ الْبَيْضَاءُ سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے اور عِندَ کے معنے قریب کے ہیں پس عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ کے معنے یہ ہیں کہ وہ مقامِ محمد یت سے غایت درجہ کا قرب رکھنے والا ہوگا۔غرض وَ النَّجْمِ إِذَا هَولی میں مسیح موعود کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں جب ظلمت کا دور دورہ ہوگا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اللہ تعالیٰ کی کی طرف سے ایک شخص مبعوث ہو گا جو عِندَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ نازل ہوگا، یعنی وہ مقامِ محمد یت سے انتہائی قرب رکھنے والا ہو گا۔اس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عِندِیت کے مقام سے معیت کے مقام تک مسیح موعود کی ابتداء کو عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ سے تعبیر کیا ہے لیکن آپ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس کی انتہاء اس سے بھی زیادہ مبارک ہو گی اور وہ میری قبر میں میرے ساتھ دفن ہو گا چنانچہ آپ فرماتے ہیں يُدْفَنُ مَعِي فِي قَبُرِئ " ۳۴