سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 900

سیر روحانی — Page 9

دیکھنے میں مشغول ہوا تو میں نے ایسے ایسے عظیم الشان آثار قدیمہ دیکھے جو ان آثار قدیمہ سے بہت زیادہ شاندار تھے جن کے خیال میں میرا دل محو تھا بلکہ ایک فوق العادت کا رنامہ آثار قدیمہ کی دریافت کا میرے سامنے آ گیا، ایک بڑا جنتر منتر جس کا اندازہ لگانا بھی انسانی طاقت سے بالا ہے میری آنکھوں کے سامنے پیدا ہوا، بڑے بڑے غیر معمولی خوبصورتیوں والے باغات، عدیم المثال نہریں، بے کنا رسمندر، عالیشان قصر، ان کے لنگر خانے ، دیوانِ عام ، دیوان خاص، بازار ہنگر خانے ، کتب خانے ، دفتر ، بے انتہاء بلند مینار اور غیر محدود وسعت والی مسجد ، دلوں کو دہلا دینے والے مقبرے اور مسمار شدہ یادگاریں ایک ایک کر کے میری نگاہوں کے آگے پھرنی شروع ہوئیں اور میں نے کہا اُف میں کہاں آ گیا۔یہ چیزیں میرے پاس ہی موجود تھیں ، تمام دنیا کے پاس موجود ہیں، لیکن دنیا ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتی اور بچوں کی طرح کھلونوں کے پیچھے بھاگتی پھرتی ہے۔میرا دل خون ہو گیا اپنی بے بسی پر کہ میں یہ چیزیں دنیا کو دکھانے سے قاصر ہوں، میرا دل خون ہو گیا دنیا کی بے توجہی پر ، مگر میرا دل مسرور بھی تھا اُس و خزانے کے پانے پر ، اُن امکانات پر کہ ایک دن میں یا خدا کا کوئی اور بندہ یہ خفی خزانے دنیا کو دکھانے میں کامیاب ہو جائے گا اور میں نے جب ان چیزوں کو دیکھا تو بے اختیار یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے کہ میں نے پالیا۔میں نے پالیا۔ہاں ہاں یہ یقینی بات ہے کہ تغلق کے قلعہ میں میں نے ایک اور دنیا کو پالیا، ایک بالا دنیا ، ایک بالا طاقت کے نشانات اور میں پہلے اس دنیا میں کھویا گیا ، پھر میں نے ایک اور دنیا کو جو اس سے کہیں زیادہ شاندار کہیں زیادہ وسیع ، کہیں زیادہ پائیدار اور پھر ایک لحاظ سے بوسیدہ کھنڈر اور تباہ حال تھی ، اُسے دیکھا اُسے پایا۔اس خستہ حالی پر میرا دل رویا اس کی شان اور پائیداری سے میرا دل مسرور ہوا۔اب آؤ میں اس کے کچھ حصہ کی آپ کو سیر کراتا ہوں۔-۱- آثار قدیمہ پہلے میں آثار قدیمہ کو لیتا ہوں ، مگر چونکہ ہماری جماعت کے بہت سے زمیندار اصحاب آثار قدیمہ کا مفہوم نہیں سمجھتے ہوں گے اس لئے اُن کی واقفیت کے لئے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ لفظ عربی زبان کا ہے۔اثر کے معنے نشان کے ہوتے ہیں ، اُردو میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں چیز