سیر روحانی — Page 237
۲۳۷ کا پانی نہیں دیا جائے گا، بلکہ عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ کے مطابق انہیں اجازت ہوگی کہ وہ جب بھی چاہیں تسنیم کے چشمہ سے پانی لے لیں جو بلندی ،شرف اور کثرت کا چشمہ ہو گا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنت میں جس شراب وغیرہ کا ذکر آتا ہے اُس سے مراد رُوحانی چیزیں ہیں ورنہ دُنیا میں کیا کبھی شرف، بلندی اور کثرت کا پانی بھی ہوا کرتا ہے یا کوئی ایسی شراب بھی ہوا کرتی ہے جو سٹرے نہیں ؟ اور پھر وہ شراب ہی کیا ہے جس میں نشہ نہ ہو، بلکہ شراب میں جتنا زیادہ نشہ ہو اتنی ہی وہ اعلیٰ سمجھی جاتی ہے اور اُسی قدر ہمارے شاعر اس کی تعریف کرتے ہیں۔ذوق کہتا ہے وہ نشہ نہیں جسے ترشی اُتار دے مگر جنت میں جو شراب دی جائے گی اس میں نہ نشہ ہوگا نہ وہ سڑی ہوئی ہوگی اور نہ صحت اور عقل کو نقصان پہنچائے گی۔۵۵ اسی طرح فرماتا ہے اس شراب میں ایک چشمہ کا پانی ملایا جائے گا جس کا نام سَلْسَبِيلا ہوگا سبیل کے معنے راستہ کے ہیں اور سال کے معنے اگر اس کے سالَ يَسِيلُ سے سمجھا جائے تو یہ ہوں گے کہ چل اپنے راستہ پر۔یا دوڑ پڑ۔یعنی دنیاوی شراب پی کر تو انسان لڑکھڑا جاتے ہے ہیں مگر وہ شراب ایسی ہو گی کہ اُسے پی کر انسان دوڑنے لگے گا اور اُس کو پیتے ہی کہا جائے گا کہ اب سب کمزوری رفع ہو گئی چل اپنے راستہ پر۔یہ فرق بھی بتا رہا ہے کہ شراب مادی نہیں ، ورنہ دنیا کی شراب پی کر انسان کے پاؤں لڑکھڑا جاتے ہیں اور وہ کبھی بھی دوڑ نہیں سکتا۔مادی شراب کے نشہ کی کیفیت مجھے ایک لطیفہ یاد ہے ، قادیان میں جہاں آج کل صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں اور جہاں سے ایک گلی ہمارے مکانوں کے نیچے سے گزرتی ہے، وہاں ایک دن میں اپنے مکان کے صحن میں ٹہلتا ہوا مضمون لکھ رہا تھا کہ نیچے گلی سے مجھے دو آدمیوں کی آواز آئی۔ان میں سے ایک تو گھوڑے پر سوار تھا اور دوسرا پیدل تھا۔جو پیدل تھا وہ دوسرے شخص سے کہہ رہا تھا کہ سند رسنگھا! پکوڑے سَالَ يَسِيلُ سے قاعدہ کے ماتحت توسل آنا چاہئے لیکن الفاظ میں دوسرے لفظ کی حرکت کے مناسب پہلے لفظ پر بھی حرکت فتحہ دیدی جاتی ہے۔لِكَوْنِهِ أَخَفْ عَلَى النِّسَانِ أَسْهَلُ عَلَى القَارِی۔کیونکہ اس سے لفظ کا نقل دور ہو جاتا اور بولنے میں آسانی ہوتی۔وَ ہے۔