سیر روحانی — Page 193
۱۹۳ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَاقْبَرَهُ۔پھر ہماری غرض چونکہ اس تعلیم کے بھیجنے سے یہ تھی کہ انسان اس پر عمل کریں اور ہمارے انعامات کے مستحق ٹھہریں اس لئے جب کوئی شخص عمل ختم کر لیتا اور امتحان کا پرچہ ہمیں دے دیتا ہے اور امتحان کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو ہم اسے قبر میں ڈال دیتے ہیں۔ہر انسان کو خدا تعالیٰ خود قبر میں ڈالتا ہے اس آیا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو خدا تعالیٰ خود قبر میں ڈالتا ہے۔یہ مٹی کی قبر جس میں ہم انسان کو دفن کر کے آجاتے ہیں یہ اصل میں مادی جسم کا ایک نشان ہوتا ہے ورنہ اصل قبر وہی ہے جو خدا بناتا ہے۔اس مادی قبر میں مُردے کو دفن کرنے ، گڑھا کھودنے ، میت کو غسل دینے اور کفن پہنانے کا تمام کام ہمارے ذمہ ہوتا ہے مگر اصلی قبر میں ڈالنے کا کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔اس مقبرہ کے متعلق مجھے کم سے کم یہ معلوم ہوا کہ اس میں سب انسانوں سے یکساں سلوک ہوتا ہے یعنی سب کا مقبرہ تیار کیا جاتا ہے۔یہ نہیں کہ اکبر کا مقبرہ ہو اور ابوالفضل کا نہ ہو بلکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کا اللہ تعالیٰ نے مقبرہ بنایا ہے اکبر کا بھی اور اکبر کی دایہ کا بھی ، اکبر کے بچہ کی کھلائی کا بھی ، اکبر کے درزی ، اکبر کے دھوبی اور اکبر کے چوہڑے کا بھی کیونکہ انہوں نے بھی کوئی نہ کوئی کام اپنے درجہ اور لیاقت کے مطابق کئے تھے اور اُن کی حفاظت بھی ضروری تھی۔پس یہ قبرستان ایسا ہے جس میں کسی سے بے انصافی نہیں کی گئی بلکہ ہر ایک کا مقبرہ موجود ہے۔نیز میں نے دیکھا کہ جن کو لوگ جلا دیتے ہیں ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے ، جن کو شیر کھا جاتے ہیں ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے، جو سمندر میں ڈوب جاتے ہیں ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے ، جو مکانوں میں جل جاتے ہیں ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے ، جن کی قبروں کو لوگوں نے اکھیڑ دیا ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے ، وہ اس دنیا کی قبروں کو اُکھاڑ کر پھینک سکے مگر اس مقبرہ کو تو چھو بھی نہیں سکے۔غرض کوئی انسان ایسا نہ تھا جس کا مقبرہ یہاں نہ ہو خواہ اُسے جلا دیا گیا ہو ، مٹا دیا گیا ہو، مشینوں سے راکھ کر دیا گیا ہو، چیلوں اور کتوں نے اسے کھا لیا ہو، مچھلیوں کے پیٹ میں چلا گیا ہو، شیروں اور بھیڑیوں نے اُسے لقمہ بنالیا ہو ، کھڈوں میں گر کر مرا ہو اور گیدڑ اور دوسرے جنگلی جانور اُسے کھا گئے ہوں ، ہر شخص کا مقبرہ یہاں موجود تھا ، غرض چھوٹے بڑے، امیر غریب، عالم جاہل سب کو مقبرہ حاصل تھا۔میں نے جب اس مقبرہ کو دیکھا تو کہا دنیا نے بہتیری کوشش کی کہ لوگوں