سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 900

سیر روحانی — Page 187

۱۸۷ دین اور دنیا کے سراسر خلاف ہے۔پھر جب میں نے بعض جگہ کتوں کے مقبرے بھی دیکھے تو میں اور زیادہ حیران ہوا کیونکہ کتوں کے مقبرے ہندوستان کے اکثر بزرگوں کے مقبروں سے بھی بہت اعلیٰ تھے۔میں نے سوچا کہ یہ مقبرے بیشک عبرت کا کام تو دیتے ہیں مگر انصاف اور حقیقت ان سے ظاہر نہیں ہوتی اور انسان ان شخصیتوں کا غلط اندازہ لگانے پر مجبور ہوتا ہے حالانکہ مقبرہ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مرنے والے کے حقیقی مقام کی حفاظت کی جائے اور مقبرہ کے ذریعہ اس کے اعمال کے نشان کو قائم رکھا جائے ، اس سے زیادہ مقبرہ کی کوئی غرض نہیں ہوتی۔مگر یہ غرض ان مقبروں سے ظاہر نہیں ہوتی اور بجائے اس کے کہ انصاف اور حقیقت ان سے ظاہر ہو وہ انسانی شخصیتوں کا غلط اندازہ پیش کرتے ہیں اور بجائے علم دینے کے دوسروں کو جہالت میں مبتلا ء کرتے ہیں۔پس میں نے سمجھا کہ یہ مقبرے زیادہ سے مقبروں کی عمارات سے صرف چارا مور کا علم زیادہ ان باتوں پر دلالت کر سکتے ہیں :- اول : اس وقت عمارت کا فن کیسا ہے یعنی مرنے والوں کو ان مقبروں کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا صرف یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ اُس وقت عمارتیں کیسی بنتی تھیں۔دوم: مرنے والے یا اس کے رشتہ دار کے پاس کس قدر مال تھا۔یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بادشاہ اچھا تھا یا برا، عالم تھا یا جاہل، البتہ یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے یا اس کے رشتہ داروں کے پاس کس قدر روپیہ تھا۔سوم : مرنے والے یا اس کے پس ماندگان کا تعمیر مقبرہ کے متعلق کیا عقیدہ یا رجحان تھا یعنی ان مقبروں سے صرف اتنا معلوم ہو سکتا ہے کہ مرنیوالے یا اس کے پسماندگان کا عقیدہ کیا تھا آیا اُن کے نزدیک اس قسم کا مقبرہ بنانا جائز تھا یا نہیں۔چہارم : ان مقبروں سے ہمیں یہ بھی پتہ لگ سکتا ہے کہ بعد میں آنے والے لوگوں کو ان کے ٹوٹنے سے کس قدر دلچسپی تھی یا یوں کہو کہ ان کے لئے اس میں دلچسپی کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ اسے باقی رہنے دیا جائے۔چنانچہ کئی مقبرے ٹوٹے ہوئے نظر آتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ سنگ مرمر بعد میں لوگ ٹوٹ کر لے گئے اور بعض اب تک بڑے شاندار نظر آتے ہیں۔پس چوتھی بات ان مقبروں سے یہ معلوم ہو سکتی ہے کہ اس بادشاہ کے مرنے کے بعد کوئی تنزل کا زمانہ آیا ہے یا نہیں۔غرض ان مقابر کو اگر دیکھا جائے تو یہی چار باتیں ان