سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 900

سیر روحانی — Page 155

۱۵۵ طرح مسجد خانہ کعبہ کی یاد کو قائم رکھتی ہے اسی طرح خلافت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کو قائم رکھتی ہے یہی وہ حکم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا تھا کہ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى۔ایک خانہ خدا قائم کر دیا گیا ہے اب تم بھی ابراہیمی طریق پر زندگی بسر کرو اور اس کی رُوح کو زندہ رکھو۔نام ابراہیمی کو مصلی بنانے کا مفہوم مقام ابراہیم کومصلی بنانے کے یہ معنے نہیں کہ ہر شخص ان کے مصلی پر جا کر کھڑا ہو یہ تو قطعی طور پر ناممکن ہے اگر اس سے یہی مراد ہوتی کہ مقام ابراہیم پر نماز پڑھو تو اول تو یہی جھگڑا رہتا کہ حضرت ابراہیم نے یہاں نماز پڑھی تھی یا وہاں اور اگر بالفرض یہ پتہ یقینی طور پر بھی لگ جاتا کہ انہوں نے کہاں نماز پڑھی تھی تو بھی ساری دنیا کے مسلمان وہاں نماز نہیں پڑھی سکتے تھے۔صرف حج میں ایک لاکھ کے قریب حاجی شامل ہوتے ہیں، اگر حنفیوں کی طرح نماز میں مُرغ کی طرح ٹھونگیں ماری جائیں تب بھی ایک شخص کی نماز پر دو منٹ صرف ہونگے اس کے معنے یہ ہوئے کہ ایک گھنٹہ میں تمہیں اور چوبیس گھنٹے میں سات سو میں آدمی وہاں نماز پڑھ سکتے ہیں اب بتاؤ کہ باقی جو ۹۹ ہزار ۲۸۰ رہ جائیں گے وہ کیا کریں گے اور باقی مسلم دنیا کے لئے تو کوئی صورت ہی ناممکن ہوگی۔پس اگر اس حکم کو ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس پر عمل ہو ہی نہیں سکتا۔پھر ایسی صورت میں فسادات کا بھی احتمال رہتا ہے بلکہ ایک دفعہ تو محض اس جھگڑے کی وجہ سے مکہ میں ایک قتل بھی ہو گیا تھا پس اس آیت کے یہ معنے نہیں بلکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس میں اللہ تعالیٰ نے امامت کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ تمہارا ایک امام ہو تا کہ اس طرح سنتِ ابراہیمی پوری ہوتی رہے، درحقیقت آیت اِنِّی جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِى قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ وَ إِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَ اَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى میں دو امامتوں کا ذکر کیا گیا ہے پہلے فرمایا کہ اِنِّی جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا میں تجھے امام یعنی نبی بنانے والا ہوں۔اس پر حضرت ابراہیم نے عرض کیا وَ مِنْ ذُرِّيَّتِی میری ذریت کو بھی نبی بنا، کیونکہ اگر میں مر گیا تو کام کس طرح چلے گا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بات غلط ہے، تمہاری اولاد میں سے تو بعض زمانوں میں ظالم ہی ظالم ہونے والے ہیں، یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ان ظالموں کے سپرد یہ کام کیا جائے۔ہاں ہم تمہاری اولاد کو یہ حکم دیتے ہیں کہ