سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 900

سیر روحانی — Page 154

۱۵۴ امام حقیقی کے وقت کام آئے ، دوسرے سابقون کی نیکیاں قوم میں زندہ رکھنے کا خیال رہے۔در حقیقت جس طرح مسجد، خانہ کعبہ کی یاد کو تازہ رکھتی ہے اس طرح امام نبوت کی یاد کو تازہ رکھتا ہے۔اب دیکھ لو اس امر کو بھی مسلمانوں نے تازہ کیا اور مقام ابراہیم کو مصلی بنایا یعنی امامت کا وجود ظاہر کیا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر صحابہ نے خلافت کو قائم کیا اور امامت کو زندہ رکھا۔پہلے حضرت ابوبکر ، پھر حضرت عمرؓ، پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علی مقام ابراہیم پر کھڑے رہے، گویا با لکل مسجد کا نمونہ تھا جس طرح مسجد میں لوگ ایک شخص کو امام بنا لیتے ہیں اس طرح صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہوتے ہی ایک شخص کو اپنا امام بنالیا۔اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔گجرات کے ایک دوست نے سنایا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کی خبر پھیلی تو ایک مولوی کہنے لگا کہ جماعت احمدیہ انگریزی خوانوں کی جماعت ہے اسے دین کا کچھ پتہ نہیں اب فیصلہ ہو جائیگا کہ مرزا صاحب نبی تھے یا نہیں ؟ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے اور تم میں چونکہ انگریزی خوانوں کا غلبہ ہے وہ ضرور انجمن کے ہاتھ میں کام دیدیں گے اور اس طرح ثابت ہو جائے گا کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے۔دوسرے ہی دن یہاں سے تار چلا گیا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ ہو گئے ہیں یہ خبر جماعت کے دوستوں نے اس مولوی کو بھی جا کر سنا دی۔وہ کہنے لگا مولوی نور الدین دین سے واقف تھا وہ چالا کی کر گیا ہے اس کے مرنے پر دیکھنا کہ کیا بنتا ہے۔جب حضرت خلیفہ اوّل فوت ہوئے تو اُس وقت وہ ابھی زندہ تھا اور اُس وقت چونکہ یہ شور پیدا ہو چکا تھا کہ بعض لوگ کہتے ہیں اصل جانشین انجمن ہے اور بعض خلافت کے قائل ہیں اس لئے اُس نے سمجھا کہ اب تو ی جماعت ضرور ٹھوکر کھا جائے گی۔چنانچہ اس نے کہنا شروع کر دیا کہ میری بات یا د رکھنا اب ضرور تم نے انجمن کو اپنا مطاع تسلیم کر لینا ہے مگر معاً یہاں سے میری خلافت کی اطلاع چلی گئی۔یہ خبر سن کر وہ مولوی کہنے لگا کہ تم لوگ بڑے چالاک ہو۔خلافت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کو قائم رکھتی ہے نے جو یہ فرمایا کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے تو اس لئے کہ مسجد سے اس کی مشابہت ثابت ہو جس طرح مسجد بنائی ہی اسی لئے جاتی ہے تا کہ عبادت میں اتحاد قائم رہے اسی طرح نبیوں کی جماعت قائم ہی اسی لئے کی جاتی ہے تاکہ عبودیت میں اتحاد قائم رہے۔پس جس