سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 900

سیر روحانی — Page 96

۹۶ ذرا میرے فلاں کمرہ کو تو کھولنا۔اسے کھولا جائے گا تو دنیا کے تمام علوم اس کے مقابلہ میں بیچ ہو کر رہ جائیں گے۔پھر ضرورت پر وہ دوسرا کمرہ کھولے گا اور پھر تیسرا اور اس طرح ہمیشہ ہی دنیا کو اس کے مقابل پر زک پہنچے گی اور ہمیشہ ہی قرآن نئے سے نئے علوم پیش کرتا رہے گا۔یہی وہ چیز ہے جس کو پیش کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور یہی وہ چیز ہے جس کو پیش کرنا ہماری جماعت کا اولین فرض ہے اور ہم حتی المقدور اپنے اس فرض کو ادا بھی کر رہے ہیں۔دنیا ہماری اسی لئے مخالف ہے کہ وہ کہتی ہے کہ تم قرآن کی خوبیاں لوگوں کے سامنے کیوں پیش کرتے ہو، مگر ہم کہتے ہیں ، اسی وجہ سے تو خدا کی غیرت بھڑ کی اور جب اس نے دیکھا کہ تم اس کی کتاب کو صندوقوں اور غلافوں میں بند کر کے بیٹھ گئے ہو تو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور آپ کو حکم دیا کہ جاؤ اور قرآن کے معارف اور علوم سے دنیا کو روشناس کرو۔یہی وہ خزائن ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقسیم کئے اور یہی وہ خزائن ہیں جو آج ہم تقسیم کر رہے ہیں۔دنیا اگر حملہ کرتی ہے تو پرواہ نہیں ، وہ دشمنی کرتی ہے تو سو بار کرے، وہ عداوت اور عناد کا مظاہرہ کرتی ہے تو لاکھ بار کرے ہم اپنے فرض کی ادائیگی سے غافل ہونے والے نہیں ہم انہیں کہتے ہیں کہ تم بے شک ہمارے سینوں میں خنجر مارے جاؤ اگر ہم مر گئے تو یہ کہتے ہوئے مریں گے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے مارے گئے ہیں اور اگر جیت گئے تو یہ کہتے ہوئے جیتیں گے کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں بلند کر دیا۔دوستوں کو نصیحت آخر میں میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے سُپر دایک عظیم الشان کام ہے ہم نے اسلام کی عظمت اور اس کی برتری دنیا کے تمام مذاہب پر ثابت کرنی ہے پس دوستوں کو چاہئے کہ جہاں تک ان سے ہو سکے وہ اسلام کو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔دشمن کے اعتراضات کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے وہ تو عداوت اور دشمنی کے جوش میں بیہودہ اعتراضات کرتا ہی رہے گا ، ہاں اپنے نفس کی اصلاح سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے ، اگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہم اس کے دین کے حقیقی خدمت گزار ہوں تو بشریت کی وجہ سے جو غلطیاں ہم سے سرزد ہونگی اللہ تعالیٰ انہیں یقیناً معاف کر دیگا کیونکہ وہ اپنے بندوں کو دنیا کی نگاہ میں کبھی ذلیل نہیں کر سکتا۔بشری کمیاں انبیاء میں بھی ہوتی ہیں۔پس اگر ایسی غلطیاں خدمت دین کے ساتھ ہوں تو خدا ان پر گرفت نہیں کرتا ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک حبشی کو اپنا وہ بچہ کس قدر ہے