سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 295 of 418

سیلابِ رحمت — Page 295

رحمت سنوار دیئے۔برہا کے مارے اپنے گھر آئے۔اپنے مینارے دیکھے ساری بستی پر انوار الہی کی بارش برستی دیکھی۔آنے والوں کے ساتھ فرشتے پر پھیلائے آئے۔سب کے سروں پر رحمت کا سایہ ہے۔سب کے چہروں پر نور الہی ہے۔سب کی آنکھوں میں پیار دیکھا اس منظر میں ایک کمی رہی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور دوسرے عشاق جواب اس دنیا میں نہیں رہے۔زندگی کی آخری سانس تک صبر و رضا سے اس آس میں رہے کہ کاش خدا قادیان لے جائے یہ بستی سدا سہا گن ہے۔اس میں وہ ہستی پیدا ہوئی جو نوروں کا ایک سمندر تھی۔جس سے نوروں کے سوتے پھوٹے۔ایک اللہ کا نام باقی رہے گا۔اسے جس بھی نام سے پکارلو۔وا ہے گرو،ایشور، اللہ اکبر“ جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر جس والہانہ انداز میں آپ گلی کوچوں میں گھومے پھرے جس گداز سے آپ نے عبادت کی۔جس وسعت سے اس کے مقام پر وقار کوسجانے سنوارنے کے منصوبے بنائے۔جس طرح آپ نے سلامتی کے تحفے فضا میں بکھیر دیے۔طویل دلفریب ایمان افروز داستانیں ہیں، جو ہم نے ظاہری اور باطنی آنکھوں سے دیکھیں۔بنا ہے مہبط انوار قادیاں دیکھو وہی صدا ہے سے اٹھی ہے سنو جو صدا سے کنارے گونج اُٹھے ہیں زمیں کے جاگ اٹھو کہ ایک کروڑ صدا اک صدا سے اٹھی ہے 293