سیلابِ رحمت — Page 412
پر سیلاب رحمت سکوں سوئے ہوئے آپ بہت یاد آئے میں بہت روئی مجھے آپ بہت یاد آئے آپ کی ساری لگن دل میں بسا لیں ہم بھی پاک تبدیلی کا منصوبہ بنا لیں ہم بھی آپ سے پیار میں کچھ یار کما لیں ہم بھی آپ سے عہد وفا ہم کو بہت یاد آئے میں بہت روئی مجھے آپ بہت یاد آئے مڑ کے یہ دیکھا نہیں ہم لوگ ہیں کس حال میں چھوڑ کر یوں چل دیے جیسے کوئی ناتا نہیں سلسلہ اک خط کا تھا باہم تھا جس سے رابطہ اب وہاں سے کوئی بھی خط لاتا لے جاتا نہیں کون سی محفل ہے جس میں ذکر خیر اُس کا نہیں کون ہے جس کو کہ اُس کا ذکر تڑپاتا نہیں 408