سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 411 of 418

سیلابِ رحمت — Page 411

سیلاب رحمت نہ پیاروں کی دعائیں روک لیں پھر اچانک کوچ کرنا چاہتا ہوں پیارے حضور کی رحلت ہر احمدی کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی لیکن مجھے غریب کا یہ ذاتی نقصان تھا۔آپ کے حسن و احسان کی یا دخون کے آنسو رلا رہی تھی۔یہی آنسو کچھ اشعار میں ڈھل گئے۔ایک نظم کے کچھ بند پیش ہیں: ہر گھڑی سوچتی رہتی تھی کہ خط آئے گا دلِ بے چین کچھ اس طرح سکوں پائے گا سلسلہ ربط بہم کا کوئی ہو جائے گا شاید اس بار کسی شعر پہ کچھ داد آئے میں بہت روئی مجھے آپ بہت یاد آئے اک فقط میں ہی جدائی پہ نہیں ہوں دیگیر اک دنیا ہے ترے حسن کی احساں کی اسیر لوگ یوں تڑپے ہیں، روئے ہیں نہیں جس کی نظیر سب کو جو اُن سے تعلق تھا وہ سب یاد آئے میں بہت روئی مجھے آپ بہت یاد آئے ہر گھڑی جنگ کڑی اُس نے لڑی ہے مولا زندگی دعوت دیں میں ہی کئی ہے مولا تا دم واپسیں خدمت ہی رہی ہے مولا 407