سیلابِ رحمت — Page 388
ہے۔دونوں متبادل ہیں۔ہندی اردو لغت میں ان دونوں کا مطلب مالک ، خدا، حاکم ، بادشاہ، اللہ تعالیٰ دیا گیا ہے۔یہ لفظ ور یا محض لڑ کے اضافہ کے ساتھ بھی مستعمل ہے۔اردو لغت جامع اللغات میں لکھا ہے کہ ایسٹر دراصل وہ شہر ہے جہاں سب سے بڑے دیوتا یعنی خدا کی عبادت ہوتی ہے۔چنانچہ یہ مضمون کھول کر جامع اللغات الیسر، ایشر اور ایشور تینوں لفظ متبادل کے طور پر پیش کرتی ہے۔جن کا مطلب بڑا دیوتا، خدا یا مالک یا خدا تعالیٰ ہے۔اسی طرح ایسر میں ایشر لکھ کر آگے خدا، اللہ معانی دئے ہوئے ہیں۔گویا ایشور کا دوسرا تلفظ ایسر اور ایشر ہے۔اس لئے کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ایشر ہی ٹھیک ہے۔“ ( مكتوب 93-10-22 صفحہ 8 ) چند دن کے بعد آپ کا ایک مکتوب موصول ہوا: میرا گزشتہ خط آپ کو مل چکا ہوگا ایشر کے لفظ پر۔اس پر میں آپ کی تجویز کی روشنی میں تبصرہ تو کر چکا ہوں۔لیکن اسکے بعد یہ بات سامنے آئی کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنی دو نظموں بعنوان 'شان اسلام میں کوئی 6 دفعہ اور ہندوؤں سے خطاب میں 5 مرتبہ لفظ ایشر استعمال فرمایا ہے۔اس شہادت سے تو مزا ہی آگیا ہے۔اس کے بعد تو کسی اور سند کی ضرورت ہی نہیں۔آپ نے درثمین کی اتنی عمدہ کتابت کروائی ہے لیکن آپ نے بھی اسے نوٹ نہیں کیا۔“ ( مكتوب 93-11-1 ) 384