سیلابِ رحمت — Page 272
تحریر تو امتہ الباری ناصر ہمہا اللہ کی دکھائی دیتی ہے۔لیکن لگتا یہ یہ ہے کہ آپکی ساری حاملہ نے مل جل کہ بوایا ہے۔کچھ مشور ہے باہم ضرور ہوئے ہونگے جو اپنے رنگوں میں اثبات بہار ہوا ہے۔بعض دفعہ کا موں میں اپنا رہنا ک ہوتا ہے کہ سب یادوں کے رشتے معطل ہوئے ہوتے ہیں۔اچانک کوئی پیر در دخط - کسی خط میں کوئی سادہ سا بے ساختہ اظہار تعلق کوئی پرتاخیر اعظم۔کوئی اچھوٹی ثارات تحریر چونکا دیتے نہیں ان یادوں میں ایسا تموج پیدا کز رہتے ہیں کہ اسے دھیما ہوتے ہوتے اور قرار پکڑتے نے کچھ وقت لگتا ہے۔پاکستان کے پیارے احمدی سب یاد آنے لگتے ہیں۔چند لمحوں کے لئے یادیں کار فرما نہ کافر معطل نہیں جاتے ہیں نیہ بھی ایک غنیمت ہے۔کبھی کبھی چپو چھوڑ کے ہیں - تو چوں کے ہاتھ بہتے چلے جاتے ہیں بھی ایک مزا ہوتا کچھ عرصہ خیالوں میں غرق ہو کر پھر سلامت ابھر آئے ہے جنم دجال کو ایک نئی توانائی ملتی ہے۔جو یاد یں کیا ہوتی ہیں کئی کلفتیں دھر بھی ڈالتی " اللہ تعالٰی لجنہ کراچی کو ہمیشہ دین کی بے لوث اور غمر دار خدمت کی توفیق عطاء فرماتا رہے۔آپکی قیادت میں چین طرح سب نہیں خلوص کے ساتھ مل جل کر ایک جان اور ایک قالب میں ڈھل کر تعاون علی البر کا دلکش مظاہرہ کر رہی ہیں خدا کرے یہ پیشہ اسی طرح رہے۔اللہ تعالٰی چشم شور نے اپکی حفاظت فرمائے اپنی رضا کی دائی جنت آپکو عطاء فرمائے اور دونوں جہان کی جنات سے آپ سب کے دامن بفرد ہے آمین و اسلام خاکار کا اطلاقه 270