سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 265 of 418

سیلابِ رحمت — Page 265

رسیلاب رحمت جو کچھ بھی میسر تھا وہ سب بانٹ رہے ہیں رکھے نہیں اپنے لئے کچھ خواب علیحدہ حرفوں کے بدن ٹوٹے ہیں اُس شب کی دُکھن سے جو یاد میں گزری شب مہتاب علیحدہ ویسے تو ساری نظم اچھی ہے مگر ان دو شعروں کا جواب نہیں ہے آپ کی نظم میں یہ علیحدہ ہی نظر آتے ہیں ماشاء اللہ جزاکم اللہ احسن الجزاء۔اللہ تعالیٰ آپ کے زور قلم میں برکت عطا فرمائے۔“ (98-5-7) 15-11-98 کا تحریر کردہ پیارا مکتوب ملا : ”پاکیزہ شجر کے نام سے جود الفضل ربوہ میں آپ کی نظم شائع ہوئی ہے مجھے پسند آئی ہے۔کبھی کبھی آپ ہر میں آکر جو کلام کہتی ہیں تو وہ چمک اُٹھتا ہے ماشاء اللہ۔جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔اللہ آپ کے علم و عرفان کو مزید صیقل فرمائے۔نیک مرادیں پوری کرے اور بچوں کو دین و دنیا میں ترقی عطا فرمائے۔“ اس نظم کا ایک شعر لکھ دیتی ہوں: وہ جو اک شخص محبت کا ہنر رکھتا ہے بڑا پارکھ ہے مرے دل پہ نظر رکھتا ہے 31-1-2001 کے مکتوب میں تحریر فرمایا: میں رسالوں میں آپ کی نظمیں دیکھتا رہتا ہوں ماشاء اللہ آپ نے بڑی محنت کی ہے اور اب بھی بڑی محنت سے علمی ادبی کام کرتی رہتی 263