سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 258 of 418

سیلابِ رحمت — Page 258

سیلاب رحمت اس نظم میں خاکسار کی کم علمی سے کچھ نقم تو تھے ہی الفضل والوں نے بھی کچھ اصلاح کر دی تھی۔اس کے علاوہ جن دو اشعار کا ذکر ہے وہ درج ذیل ہیں : چاند نہ جانے گھومتا گھامتا کب پہنچے کیا بات کہے میرا تمہارا ملنا ہو تو سامنے بیٹھ کے بات کروں گود میں بھر کے پیار کروں میں سر دیکھوں اور خار چنوں تو مل جائے یا رہی تو خاطر مدارات کروں پیارے حضور نے تبصرہ فرمایا: (مکتوب 93-5-6) ”اچھا کیا آپ نے استغفار میں صبح کروں اور استغفار میں رات کروں ، کا مصرع لکھ دیا۔اس تصحیح شدہ مصرع کے ساتھ یہ شعر اور سنور گیا ہے لیکن الفضل نے غالباً ایک اور بھی غلطی کی ہے۔میں ہونا چاہیے۔لیکن دونوں جگہ میں لکھ کر آپ کے شعر کا ستیا ناس کیا ہوا ہے۔اس طرح دوسرے شعر کے متعلق بھی الفضل کی غلطی کی نشان دہی کر کے آپ نے اچھا کیا اور نہ چاند نہ جانے گھومتا گھامتا کب جانے کیا بات کہے سے بات نہیں بنتی تھی۔بہت اعلیٰ پائے کا شعر ہے۔ماشاء اللہ ، چشم بد دور۔اگر الفضل نے غلط چھاپنا ہی تھا تو بہتر تھا کہ کب کے بعد وقفہ ڈالتے اور جانے کیا بات کہے پر بات ختم کرتے تو پھر بھی مضمون بہت سنور جاتا ویسے مجھے ذاتی طور پر یہی جائے کیا بات کہنے والی بات زیادہ پسند ہے کیونکہ گھومتے گھامتے چاند کے متعلق کب جائے“ کا خیال ضرور آتا ہے۔اس نظم کے دوسرے شعر میں تو مل جائے یا ربی تو خاطر مدارات 256