سیلابِ رحمت — Page 67
رحمت نہیں۔آپ نے سوال جواب کے انداز میں اور مختصر طور پر تاریخ احمدیت کو اجاگر کرنے کی بابرکت سعی کی ہے۔دلی مبارک باد قبول ہو۔“ الحمد لله ثم الحمد لله۔۔مکرمہ امۃ الشافی سیال صاحبہ نے ہماری فرمائش پر حضرت اقدس مسیح موعود کی انذاری پیشگوئیوں پر ایک کتاب فتوحات کے نام سے لکھی۔اس کے بعد ” بے پردگی کے خلاف جہاد“ جلسہ سالانہ 1982ء خواتین سے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع " کا خطاب شائع ہوا۔ہماری اکیسویں کتاب جو 1991 ء میں شائع ہوئی ، مکرمہ امۃ الرفیق ظفر صاحبہ کی آداب حیات تھی جس میں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں اسلامی آداب تحریر کئے گئے تھے۔مثلاً قرآن مجید کی تلاوت، انبیا کرام علیهم السلام، اکرام والدین، نماز جمعه، مساجد، راستوں ، گفتگو، سونے جاگنے ، لباس، ملاقات ،سلام،کھانے پینے ، دعوتوں ، عیادت کے تعزیت اور سفر کے آداب شامل ہیں۔پہلے ایڈیشن کے بعد حضور پر نور کا ارشاد موصول ہوا کہ مفید کتاب ہے۔اس کا ترجمہ کروانا مقصود ہے۔مگر حوالے درج کرنے کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔مکرم امیر صاحب ضلع کراچی کے توسط سے مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب کی زیر نگرانی مربیان کی ایک ٹیم نے نہایت عرق ریزی سے سارے حوالے درست گئے۔مکرمہ امتہ الشکور امجد بیگ صاحبہ نے پروف ریڈنگ میں مدد کی۔کتاب کا دوسرا ایڈیشن بہت بہتر شائع ہوا۔اس کے بعد کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔کینیڈا میں انگریزی میں ترجمہ ہوا اور لجنہ کے نصاب میں شامل ہوئی۔مکرمہ آیا طاہرہ صدیقہ صاحبہ حرم حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے ہماری حوصلہ افزائی فرمائی تحریر کیا: 67