سیلابِ رحمت — Page 54
سیلاب رحمت اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ، خلیفہ وقت کی دعائیں ، پر حکمت صدارت ، پر ولولہ مخلص ساتھی یہ اصل زر تھا جس سے کام کا آغاز ہوا۔ورنہ ہم تو لاشئی محض ہیں۔علم و تجربے کے لحاظ سے بالکل صفر تصنیف و اشاعت کا کام جس علم محنت اور سرمائے کا متقاضی ہے اُس سے بھی ناواقف۔دراصل ہم خود بھی نہیں جانتے تھے کہ ہم کتنے مشکل کام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔سب کچھ مولا کریم کروارہا تھا۔ہمیں تو کچھ پتہ نہیں تھا کہ کام کیا رُخ اختیار کرے گا۔یہ محض اللہ تعالی کی عطا ہے۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں دعا کرتے : ترجمہ: ” اور سوائے اللہ کے فضل کے مجھے کوئی توفیق نہیں۔اے ہمارے رب ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما اور اپنے حضور سے ہمیں راستے کا فہم عطا فرما اور اپنے پاس سے ہمیں خاص علم سمجھا۔“ (حقیقۃ الوحی- روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 7) 1988ء میں ربوہ میں سالانہ اجتماع کے موقع پر جشن صد ساله تشکر شایان شان طریق سے منانے کے لئے لجنات سے تجاویز اور منصوبے مانگے گئے تو کراچی کی بلند ہمت ، بلند ، نظر بشری داؤد (سیکرٹری اصلاح وارشاد ) نے کم از کم سوکتب شائع کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا جو منظور کر لیا گیا۔اس طرح ہم کتب کی اشاعت کے جس کام کا ضلع کی سطح پر آغاز کر چکے تھے با قاعدہ صد سالہ جشن تشکر کے تحت ہو گیا۔54